سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 480 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 480

422 کو میں پکڑ لیتا ہوں میری یہ بات سن کر حضور ہنس پڑے اور فرمایا کہ نہیں نہیں یہ محاذ ہے اور میں تو آپ سے بھی تکڑا سپاہی ہوں۔یہ جواب سن کر میں اسی جگہ آ گیا جہاں پہلے تھا اور حضور پھر نقشہ دیکھنے اور باتیں کرنے میں مصروف ہو گئے حضور دیر تک ہمارے افسران کو قیمتی نصیحتیں فرماتے رہے اور پھر حضور نے فرمایا کہ خدام نے کھانا کھا لیا ہے؟ محترم مرزا مبارک احمد صاحب نے فرمایا کہ حضور ! نہیں۔حضور نے فرمایا کہ انتظام کرو ہم خدام کے ساتھ اکٹھے کھانا کھائیں گے چنانچہ حضور کے اس ارشاد کے مطابق سکول کے گراؤنڈ میں دریاں وغیرہ بچھا دی گئیں اور کھانا لایا گیا حضور مع خدام ایک گول دائرہ میں بیٹھ گئے۔حضور بڑی محبت سے پوچھتے کہ بھوک تو زیادہ نہیں لگی ہوئی ؟ حضور اتنی محبت اور شفقت سے پوچھتے کہ میں حیران رہ گیا اور میں نے ساری زندگی میں کوئی باپ اپنے بچوں سے اتنی محبت اور شفقت سے پیش آتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔کھانا شروع کر دیا اور قریب کے خدام کو حضور اپنے ہاتھ سے کھانا پیش کرتے رہے۔سُبحَانَ اللهِ یہ کیا نظارہ تھا جو میں نے دیکھا اور جب سب خدام کھانا شروع کر چکے تو پھر حضور نے شروع کیا اور ساتھ ہی فرمایا کہ صحابہ کرام بہت تھوڑے کھانے پر گزارہ کر لیا کرتے تھے ہمیں اللہ تعالیٰ نے بہت نعمتیں عطا فرمائی ہیں پھر حضور نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اسلئے یہاں نہیں بھیجا کہ تم سپاہی ہو بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ ولی اللہ بن جاؤ پھر حضور نے کھانے سے فارغ ہو کر دعا فرمائی اور پھر نمازیں پڑھائیں اور سب خدام کو شرف مصافحہ بخشا اور مع قافلہ واپس سیالکوٹ تشریف لے گئے“ مولوی علی احمد صاحب حقانی راولپنڈی سے حضور کی ملاقات کی غرض سے قادیان آئے اپنی اس حسین یا د کو بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :- اُن دنوں حضرت صاحب مسجد مبارک میں کھڑ کی کے راستے سے تشریف لایا کرتے تھے نماز پڑھا کر تشریف لے جاتے اور کسی کو بات کرنے کی اجازت نہ تھی جب میں نے یہ حالت دیکھی تو ایک رقعہ پر یہ شعر لکھ کر گزرتے گزرتے پکڑا دیا