سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 472 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 472

414 دن خدا کو کیا شکل دکھاؤں گا ، میں خود جاتا ہوں“ میں نے کہا آپ نہ جائیں، گرمی بہت ہے، میں چلی جاتی ہوں“ حضور نہ مانے اور خود اندر گئے اور دوائی لے کر اسے دی اور ساتھ ہی اسے ہدایت کی کہ صبح آ کر اپنے خاوند کی خیریت کی خبر دے“ ایک خادم سلسلہ کی قدردانی اور عزت افزائی کا نظارہ دیکھئے:۔( ملت کا فدائی صفحہ ۴۹-۵۰) جناب خاں صاحب فرزند علی صاحب امام مسجد احمد یہ لندن۔مبلغ اسلام ۱۰۔اپریل کو بارہ بجے کی ٹرین سے قریباً پانچ سال کے بعد تشریف لائے۔سٹیشن پر احباب کثیر تعداد میں اپنے مجاہد بھائی کے استقبال کے لئے جمع تھے اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی باوجود ناسازی طبع اور بہت نقاہت کے اپنے خادم کی عزت افزائی کیلئے سٹیشن پر تشریف لے گئے۔جب خان صاحب مسجد مبارک میں پہنچے تو شیخ یوسف علی صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے کسی سے وضوء کے لئے پانی لانے کو کہا مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بنفس نفیس اندر سے جا کر پانی کا لوٹا بھر لائے“ (الفضل صفحہ ۱ ،۱۳۔اپریل ۱۹۳۳ء) مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب ( ناظر دیوان ) اپنی نو عمری کے زمانہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- ۲۶۔جولائی ۱۹۳۱ء کو حضرت مصلح موعود نے قادیان سے شملہ تک وہ تاریخی سفر کیا جس میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔جبکہ حضور کی شملہ میں قیام گاہ فیئر ویو کوٹھی میں ہندوستان کے تمام مسلم قابلِ ذکر لیڈ ر جمع ہوئے اور سر محمد اقبال صاحب کی تجویز اور تمام کے تمام جمع شدہ لیڈروں کی تائید اور اتفاق سے حضور اس کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے۔راقم الحروف کو اس سفر میں حضور کے ہمراہیوں میں شمولیت کی سعادت نصیب ہوئی۔جس روز ہم شملہ ////