سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 471
413 اتفاق سے ایک دن کوئی دیہاتی خاتون حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہوئیں ان کے گرد آلود پاؤں کی وجہ سے قالین پر نشان پڑ گئے۔حضور نے محسوس فرمایا کہ آپ کے اس عزیز ( جن کی خواہش پر یہ قالین بچھایا گیا تھا) کے چہرہ پر کچھ نا پسندیدگی کے آثار ہیں۔اس خاتون کے جانے کے بعد حضور نے وہ قالین اسی وقت وہاں سے یہ کہتے ہوئے نکلوا دیا کہ میں اسے اپنے اور اپنی جماعت کے درمیان حائل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا“ محترم مرزا رفیق احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مہر آپا نے فرمایا کہ: - ایک گرم اور حبس والی رات گیارہ بجے دروازہ کھٹکا، ان دنوں بجلی ابھی ربوہ میں نہیں آئی تھی۔حضور لالٹین کی روشنی میں صحن میں لیٹے ہوئے کتاب پڑھ رہے تھے۔حضور نے مجھے کہا کہ دیکھو کون ہے؟ میں نے دریافت کیا اور آ کر حضور سے کہا ایک عورت ہے وہ کہتی ہے کہ میرے خاوند کو حضور نے دوائی دی تھی اس سے بہت افاقہ ہو گیا تھا ، مگر اب طبیعت پھر خراب ہو گئی ہے ، دوائی لینے آئی ہوں“ آپ نے فرمایا! کمرہ میں جاؤ فلاں الماری کے فلاں خانے سے فلاں دوائی نکال لاؤ گرمی مجھے بہت محسوس ہوتی ہے اور یہ موسم میرے لئے ہمیشہ نا قابل برداشت رہا ہے۔اپنی اس کمزوری کی بنا پر میں کہ میٹھی :- یہ کوئی وقت ہے، میں اسے کہتی ہوں کہ صبح آ جائے اندر جا کر تو جبس سے میرا سانس نکل جائے گا“ اس پر حضور نے بڑے جلال سے فرمایا ! تم اُس اعزاز کو جو خدا نے مجھے دیا ہے چھیننا چاہتی ہو! ایک غرض مند میرے پاس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے آتا ہے، یہ خدا کی دی ہوئی عزت ہے کہ مجھے خدمت کا موقع ملتا ہے، اسے میں ضائع کر دوں تو قیامت کے