سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 469 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 469

411 مشرقی بنگال جانے کا مشورہ نہ دیا۔چنانچہ ۱۹۲۸ء میں جب خاکسار ضلع ساہیوال چلا آیا تو حضور نے خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کی مجالس کا سلسلہ جاری کیا اور ہر محلہ میں پریذیڈنٹ سیکرٹریان مقرر فرمائے اور نمازوں کی حاضری کے لئے ہر محلہ میں رجسٹر کھلوائے“ قادیان کے احمدیوں کی عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لئے حضور کے ارشاد پر ایک عام دعوت ہوئی اخبار الفضل اس مبارک تقریب کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: عید الفطر سے ایک روز قبل حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ عید کے دن کوئی ایسی تقریب ہونی چاہئے جس کے ماتحت تمام مقامی احمدی مشترک کھانا کھا ئیں اور لنگر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جاری فرمودہ متبرک سلسلہ ہے وہاں سے غرباء اور مساکین کو کھانا دیا جائے اس کے علاوہ جو دوست اپنا خرچ دے کر اس دعوت میں شریک ہونا چاہیں انہیں بھی شامل کر لیا جائے۔اس فہرست میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بعد میں جملہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی شامل کرنے کا اعلان فرمایا قریباً ساڑھے چار ہزار احمد یوں کو عید کے دن شام کے وقت پلا ؤ ، آلو گوشت اور روٹی پر مشتمل کھانا کھلایا گیا۔جس میں قلیل حصہ ان لوگوں کا تھا جنہوں نے خرچ دیا تھا اور کثیر حصہ غرباء کا تھا۔اس انتظام کی وجہ سے یہ عید قادیان میں اپنی قسم کی پہلی عید تھی۔آئندہ کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کا خیال ہے کہ عید الفطر کے موقع پر اس قسم کی دعوت کا انتظام کیا جایا کرے اور بروقت انتظامات شروع کر کے یہ کوشش کی جائے کہ جملہ مقامی احمدی اور مہمان اس میں شامل ہوں“ الفضل ۲۱۔جنوری ۱۹۳۴ ء صفحه ۱) جماعت کے اخلاص و محبت اور احباب جماعت کی دلجوئی و دلداری کا ایک بہت پیارا واقعہ بیان کرتے ہوئے اخبار الفضل (۲۲۔جنوری ۱۹۲۹ء ) رقمطراز ہے:۔وو و حضور مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں تشریف لائے جہاں احمد یہ جماعت لاہور کے احباب کثیر تعداد اور بعض بیرونی احباب بھی حضور سے