سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 468
410 فرمایا کہ مجھے یاد دلانا ان کے واسطے دوائی تیار کر کے بذریعہ پارسل نوشہرہ بھیج دی جائے گی۔چنانچہ جب ہم واپس نوشہرہ چھاؤنی پہنچے تو کچھ دنوں کے بعد ایک پارسل حضور کی جانب سے موصول ہوا جس میں ایک بند ڈبیا میں سفید رنگ کا پوڈر تھا۔حسب ہدایت وہ کچھ دن استعمال کیا گیا جس کے استعمال سے گلٹیاں غائب ہو گئیں اور اب تک اس کا نام ونشان نہیں اور کبھی نہیں اُبھریں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ۔یہ تھا حضور عالی کا اپنے ناچیز خادموں کے ساتھ مربیانہ سلوک 66 ایک مخلص خادم سلسلہ کی قدردانی اور حوصلہ افزائی کا بہت ہی پیارا نظارہ مکرم علی محمد صاحب مسلم ساہیوال کی زبانی سنیئے :- حضرت فضل عمر خلیفہ المسیح الثانی (ہزار ہزار برکتیں اور رحمتیں نازل ہوں انکی قبر پر ) واقعی طور پر حسن واحسان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نظیر تھے اپنے مریدین سے حد درجہ محبت اور پیار تھا اور کام کرنے والوں کی قدر کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس عاجز کو فرمایا کہ مشرقی بنگال میں ایک دوست کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے استاد کی ضرورت ہے۔وہ ڈیڑھ صد روپیہ ماہوار تنخواہ دیا کریں گے اور رہائش اور خوراک کا انتظام بھی ان کے ذمہ ہو گا لہذا آپ وہاں چلے جائیں۔خاکسار نے عرض کیا کہ خاکسار حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے مشورہ کے بعد عرض کرے گا۔چنانچہ خاکسار نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں یہ معاملہ پیش کیا۔جس پر حضور نے محبت بھرے لہجہ میں فرمایا کہ ”آپ کی یہاں بھی ضرورت ہے، یہ ارشاد سن کر خاکسار کا دل خوشی میں بلیوں اچھلنے لگا کہ مجھے جیسا نالائق بھی حضور ( ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی نظر میں مقبول ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ خاکسار نے قادیان دارالامان میں غیر بور ڈرلڑکوں کی نمازوں اور تربیت کا کام اپنے ذمہ لے رکھا تھا اور ہر محلہ میں دو دو مانیٹر نماز کی حاضری کے لئے مقرر کر رکھے تھے جو روزانہ رپورٹ دیا کرتے تھے اور ہر ماہ یوم والدین کا جلسہ منعقد کیا کرتا تھا۔بعض دفعہ حضرت مصلح الموعود بھی ان جلسوں کی صدارت فرمایا کرتے تھے اور اس کام سے حضور کو خاص دلچسپی تھی۔بناء بر میں حضور نے لمصله