سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 466 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 466

408 محمد عبداللہ صاحب قلعہ صوبہ سنگھ خلافت ثانیہ کے بالکل ابتدائی ایام کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو جماعت کے ایک ایک فرد سے حضور کی محبت کی ایک حسین مثال ہے :- مارچ ۱۹۱۴ ء میں خاکسار پٹیالہ میں تھا حضرت خلیفہ اول کے انتقال کی خبر پہنچی تو جماعت کا ایک غیر معمولی اجلاس بلایا گیا جس میں طے پایا کہ پٹیالہ کی جماعت کی طرف سے دو آدمی منتخب کر کے دارالامان بھیجے جائیں اور وہ سب جماعت کی طرف سے جو خلیفہ بھی ہو اس کی بیعت کر آئیں چنانچہ خاکسار اور حضرت مولوی محمود الحسن صاحب جو نہایت بوڑھے تھے اور کسی سکول میں مدرس تھے قادیان جانے کے لئے تیار کئے گئے۔بعد دو پہر ہم دونوں پٹیالہ سے روانہ ہو کر غالبا عصر کے قریب یا شام کے وقت راجپورہ پہنچے۔وہاں سے ہم میل ٹرین پر سوار ہوئے ، تھرڈ کلاس کا ایک ہی ڈبہ تھا اور سواریوں سے اس قدر لبریز تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی ، مولوی صاحب مرحوم کو میں نے ایک کونے میں جوں توں کر کے بٹھا دیا اور خود کھڑا رہا، تمام رات میں نے کھڑے ہی گزاری جب جالندھر گاڑی پہنچی تو ایک شخص جو برتھ کے اوپر بستر کر کے سورہا تھا اُس نے مجھے کہا کہ آپ میرے بستر پر آ کر آرام کریں اور میں نیچے آ جاتا ہوں میں غنیمت سمجھ کر اُس بستر میں جا لیٹا اور جب گاڑی جنڈیالہ پہنچی تو میں نیچے اُتر آیا اور وہ شخص اپنے بستر پر چلا گیا بستر پر جانے کے بعد اس نے مجھے کہا کہ میری جیب میں بٹوا نہیں ہے جس میں پانچ روپے کا نوٹ تھا اور لدھیانہ میں میں نے اسے جیب میں رکھا تھا چونکہ ہم نے امرتسر گاڑی چھوڑ دینی تھی اس لئے میں نے اسے کہا کہ اگر تو آپ کو مجھ پر شبہ ہے تو میں اس وقت آپ کے پاس حاضر ہوں آپ بڑی خوشی سے میری تلاشی لے سکتے ہیں مگر اُس نے امرتسر پہنچ کر مجھے پولیس کے حوالہ کر دیا اور خود اپنا سفر جاری رکھا میری یہ حالت دیکھ کر مولوی محمود الحسن صاحب بہت گھبرائے اور وہ قادیان روانہ ہو گئے۔عصر کے قریب وہ قادیان پہنچے اور جاتے ہی حضور کی خدمت میں مفصل حالات عرض کئے۔حضور نے اُسی وقت شیخ نور احمد صاحب مرحوم کو جو حضور کے مختار عام تھے بلا کر تاکید کی کہ فوراً یکہ کرا کر بٹالہ پہنچیں، اگر ٹرین نہ ملے تو بٹالہ سے بذریعہ //////