سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 439
396 فائر کیا تینوں نیچے آ گرے اتنے بڑے مگ تھے کہ کاندھے پر لٹکانے سے اس کی چونچ پاؤں کو چھوتی تھی۔میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنانگ حضور کو دیکر آؤنگا۔حضرت چھوٹی آپا کے ہاں آپ کی باری تھی۔انہوں نے دیکھتے ہی فرمایا کہ حضور آج فرما رہے تھے کہ مگ کا پلاؤ کھانے کو جی چاہتا ہے۔میں سمجھ گیا کہ ہمارا شکار کا پروگرام بننا سارا دن شکار نہ ملنا ایک دیہاتی سے ملاقات اور اس کا تین مگوں کا بتانا اور پھر ایسا ہی ہونا اور ان کا شکار کر لینا یہ سب باتیں حضور کی خواہش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتظام تھا۔اس طرح ہماری دلجوئی اور حوصلہ افزائی بھی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے کی خواہش کو بھی پورا کر دیا۔بچپن کا واقعہ ہے جبکہ سکول میں پڑھا کرتا تھا۔ربوہ اُن دنوں کچے گھروں پر مشتمل تھا۔قصر خلافت میں دیہاتی طرز پر کچے مکانات کی عمارات تھیں۔ساتھ ہی ایک کچی بیت تھی۔رمضان کے دن تھے نماز تراویح میں ہم بہت سے بچے شریک تھے۔سخت گرمی کی وجہ سے روزہ افطار کے وقت میں نے بہت سا پانی پی لیا۔نماز کے دوران مجھے چکر آ گیا۔صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب میرے ساتھ تھے وہ فوراً مجھے حضرت امی جان محترمہ ام ناصر کے ہاں لے گئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) وہیں تشریف فرما تھے۔آپ نے دریافت فرمایا کیا ہوا؟ میاں رفیق احمد صاحب نے میری طبیعت کی خرابی کے بارے میں عرض کیا۔باہر صحن میں پلنگ بچھے ہوئے تھے حضور نے اُسی وقت بستر پر لیٹنے کا ارشاد فرمایا بار بار دوا دی۔جب تک طبیعت اچھی نہ ہوئی جانے نہ دیا بار بار تشریف لاتے رہے اور گھر پہنچنے کا انتظام بھی فرمایا۔یہ تھی حضور کی ایک بچے پر شفقت انتہائی مصروفیت کے باوجود وقت دیا اور پھر پوری طرح دیکھ بھال فرمائی۔وادی سون میں حضور نے ایک پر فضا مقام نخلہ“ جو کہ جابہ اور پیل کے قریب تھا وہاں ایک گرمیوں کا مستقر تعمیر کروایا۔پہاڑ پر ایک باغ لگوایا مکانات تعمیر ہوئے یہ مقام ایک ہزار فٹ کی بلندی پر تھا۔سادہ سی تعمیرات لیکن تھیں