سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 421 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 421

378 جوان مبارک خواتین کی عظمت کردار سے بڑھ کر اس عظیم شوہر کی عظمتِ کردار کا پتہ دیتی ہے جو نظم ونسق قائم رکھنے کی حیرت انگیز صلاحیتیں رکھتا تھا۔آپ ایک ایسے عظیم الشان مربی تھے کہ بسا اوقات ایک لفظ زبان سے کہے بغیر آپ کی شخصیت سے تربیت کا از خود ہونے والا ترشح اگر دو پیش کو ریڈیائی لہروں کی طرح اپنی ذات کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتا تھا اور ماحول کی ہر چیز خود بخود ٹھیک ٹھاک اپنے مقام پر بیٹھ جاتی تھی اور اپنے دائرہ کار سے تجاوز نہ کرتی تھی۔یا یوں کہہ لیجئے کہ بجلی کے بڑے بڑے ٹرانسمیٹر جس طرح اپنے ماحول کو ایسی طاقتور لہروں سے بھر دیتے ہیں کہ بسا اوقات ان کا پیغام سننے کے لئے بجلی سے چلنے والے ریڈیو سیٹ کی بھی ضرورت نہیں رہتی اور ہیرے سے بنا ہوا ایک سادہ سا آلہ جسے (Crystal set) کہا جاتا ہے براہِ راست ان کی آواز پکڑ کر سنانے کی اہلیت رکھتا ہے اور اس کو چلنے کی قوت اسی فضاء سے حاصل ہو جاتی ہے جس کو ٹرانسمیٹر نے طاقت سے بھر دیا ہوتا ہے۔بہر کیف حضرت خلیفتہ المسیح کو اس امر کی حاجت نہ تھی کہ اپنی ازواج کو بار بار تعاون کی تلقین کریں، دینی کاموں میں اختلاف اور جھگڑوں سے منع کریں یا آئے دن ان کے چھوٹے چھوٹے اختلافات کو سلجھانے میں اپنا قیمتی وقت صرف کریں، نہیں کبھی ایسا نہیں ہوا۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا اپنی والدہ کی وفات تک ایک مرتبہ بھی ایسا واقعہ نہ دیکھا نہ سنا کہ ہماری بڑی والدہ حضرت ام ناصر نے حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں یہ شکایت پیش کی ہو کہ مریم نے فلاں دینی معاملہ میں میرے ساتھ تعاون نہیں کیا یا اس کے برعکس کبھی میری والدہ نے کوئی شکوہ اس نوعیت کا حضور کی خدمت میں پیش کیا ہو کہ لجنہ اماء اللہ کے معاملات میں حضرت سیدہ اُمم ناصر نے میرے ساتھ یہ غیر مشفقانہ سلوک کیا ہے۔سالہا سال تک لجنہ اماءاللہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس ہمارے گھر میں منعقد ہوتے رہے۔کبھی ایک مرتبہ بھی میں نے کوئی تکرار نہیں سنی ، کوئی خلافِ ادب بات نہیں دیکھی۔گویا رشتوں کی طبعی رقابت کو اس مقدس دائرے میں قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی جیسے کسی مقدس عامل نے اپنی جادو کی چھڑی سے ان