سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 400 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 400

357 وجود میں نظر نہیں آتا۔آپ کے باون سالہ دورِ خلافت میں کئی فتنے اٹھے بظاہر ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ دنیا نے سمجھ لیا کہ اب یہ جماعت منتشر ہو جائے گی، اس کا اتحادٹوٹ جائے گا لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یقین کامل تھا اور یہ یقین تھا کہ یہ رداء اُس نے پہنائی۔اسے کوئی اُتار نہیں سکتا۔بڑے سے بڑا فتنہ اُٹھے بڑے سے بڑا دشمن مقابل میں آئے وہ بہر حال شکست کھائے گا۔سب سے پہلے پیغامیوں کا فتنہ اٹھا۔ان کو زعم تھا کہ جماعت کے سرکردہ ہمارے ساتھ ہیں آہستہ آہستہ ساری جماعت ہمارے ساتھ ہو جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو الہاماً بتا چکا تھا کہ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا آپ کے اطاعت گزار آپ کے نہ ماننے والوں پر ہمیشہ غالب رہیں گے۔چنانچہ آپ نے عَلَى الْإِعْلان اُن کو چیلنج دیا کہ : - پھیر لو جتنی جماعت ہے میری بیعت میں باندھ لو ساروں کو تم مکر کی زنجیروں سے پھر بھی مغلوب رہو گے مرے تا يوم البعث تقدیر خداوند کی تقدیروں سے ہے اور دنیا نے دیکھ لیا کہ اس پاک وجود کے سر پر واقعی خدا کا سایہ تھا۔جس نے اس کی مخالفت کی وہ ناکام رہا اور جس نے اس مسیحی نفس سے تعلق رکھا اس نے روح الحق کی برکت سے بیماریوں سے نجات پائی۔ایمان باللہ کے ایمان افروز نمونے اللہ تعالیٰ پر جو آپ کو ایمان تھا اس کی ابتداء جس رنگ میں ہوئی اس کا بیان میں آپ کے ہی الفاظ میں تحریر کرتی ہوں: - ۱۹۰۰ء میرے قلب کو اسلامی احکام کی طرف توجہ دلانے کا موجب ہوا ہے۔میں گیارہ سال کا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کوئی شخص چھینٹ کی قسم کے کپڑے کا ایک جُبہ لایا تھا میں نے آپ سے وہ بتبہ لے لیا تھا کسی اور خیال سے نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کا رنگ اور اس کے نقش مجھے پسند تھے میں اسے پہن نہیں سکتا تھا کیونکہ اُس کے دامن میرے پاؤں سے نیچے لٹکتے رہتے تھے۔جب میں گیارہ سال کا ہوا اور ۱۹۰۰ ء نے دنیا میں قدم رکھا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالیٰ پر کیوں ایمان لاتا ہوں اس