سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 397 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 397

354 ڈالوں دین کی خدمت کروں، حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی عظیم ذمہ داریوں میں آپ کا ہاتھ بٹاؤں بار بار آپ نے اس کا اظہار فرمایا کہ میں نے تم سے شادی اسی غرض سے کی ہے اور میں خود بھی اپنے والدین کے گھر سے یہی جذبہ لے کر آئی تھی۔شادی کے موقع پر ابا جان کی نصائح میرے ابا جان نے شادی کے موقع پر مجھے جو نصائح لکھ کر دیں تھیں ان میں یہ سطور بھی لکھ کر دی تھیں :- مریم صدیقہ ! خدا تعالیٰ کا شکر کرو کہ اس نے اپنے فضل سے تم کو وہ خاوند دیا ہے جو اس وقت روئے زمین پر بہترین شخص ہے اور جو دنیا میں اس کا خلیفہ ہے۔دنیا اور دین دونوں کے علوم کے لحاظ سے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔خاندانی عزت اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا ہے اور جس کی بابت ان کی وحی یہ ہے فرزند دلبند۔گرامی ارجمند مَظْهَرُ الْحَقِّ وَ الْعُلَا كَاَنَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ۔وہ جلد جلد بڑھے گا۔دل کا حلیم سخت ذکی اور فہیم ہو گا۔اسیروں کی رستگاری کرے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔فضل عمر بشیر الدین محمود علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔وغیر وغیرہ (مفہوم ) پس تم اپنی خوش قسمتی پر جس قدر بھی ناز کر و بجا ہے“ اسی تسلسل میں آگے چل کر آپ لکھتے ہیں :- مریم صدیقہ تم انداز نہیں کرسکتیں کہ حضرت خلیفہ مسیح پر خدمت دین کا کتنا بوجھ ہے اور اس کے ساتھ کس قدر ذمہ داریاں اور تفکرات اور ہموم و عموم وابستہ ہیں اور کس طرح وہ اکیلے تمام دنیا سے برسر پیکار ہیں اور اسلام کی ترقی اور سلسلہ احمدیہ کی بہبودی کا خیال ان کی زندگی کا مرکزی نکتہ ہے۔پس اس مبارک وجود کو اگر تم کچھ بھی خوشی دے سکو اور کچھ بھی ان کی تھکان اور تفکرات کو اپنی بات چیت خدمت گزاری اور اطاعت سے ہلکا کر سکو تو سمجھ لو کہ تمہاری شادی اور تمہاری زندگی بڑی کامیاب ہے اور تمہارے نامہ اعمال میں وہ ثواب لکھا جائے گا جو بڑے سے بڑے مجاہدین کو ملتا ہے“