سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 374 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 374

331 امتہ الحئی تھی۔اب میری وہ سکیم اس واقعہ کے بعد بدل گئی اور نئے فکر کی اس کے لئے ضرورت پڑی۔کوئی کام بغیر آلات کے نہیں ہو سکتا روشنی دیکھنے کا کس قدر بھی شوق ہو لیکن اگر آنکھیں نہ ہوں تو یہ شوق پورا نہیں ہوسکتا۔چلنے کا کتنا شوق ہو لیکن وہ شوق بغیر ٹانگوں کے پورا نہیں ہوسکتا۔پس جب تک ہتھیار نہ ہوں تب تک کوئی کام نہیں ہو سکتا۔اور میرے اپنے خیال اور ارادہ میں جس ہستی کے اوپر میرا ہاتھ تھا اور جس پر مجھے بڑی امیدیں تھیں وہ ہستی مجھ سے جدا ہوگئی اس وجہ سے مجھے غم ہے ورنہ ایسے انسان کی موت پر بھلا کیا غم ہوسکتا ہے جس کے لیئے اس قدر دعاؤں کا موقع ملا اور جس کے لئے آخری حد تک جو تیمار داری ممکن تھی اور میری برداشت کے اندر تھی وہ کی اور اپنی محبت کے اظہار کے لئے دل پر پتھر رکھ کر وہ کام کئے جو دوسروں کے لئے کرنے ناممکن ہیں۔میں نے بھی اس کے لئے دعائیں کیں اور جماعت نے بھی دعائیں کیں، پھر ایک بہت بڑی جماعت نے جنازہ پڑھا اور باہر کی جماعتیں بھی جنازہ پڑھیں گی، پھر مقبرہ بہشتی میں مدفون ہو ئیں بھلا اتنی خوش نصیبی کس کو نصیب ہے۔میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم نے کہا کہ امتہ الحئی تو بڑی ہی خوش نصیب نکلیں جس کے لئے اتنی دعائیں ہوئیں اور اتنے بڑے مجمع نے نماز جنازہ ادا کی۔پس اس کی موت پر کیسا غم اور کیسا رونا۔ہاں ایک رونا اپنی طبیعت کے لحاظ سے بھی ہوتا ہے جو طبیعت مدت تک ایک انسان کے ساتھ رہنے کی عادی ہو چکی ہوتی ہے تو اس عادت کے خلاف ہونے پر ضرور رونا آتا ہے جو ایک طبعی امر ہے لیکن وہ خون کس طرح ہو سکتا ہے۔خزن تو گذشتہ چیز پر ہوتا ہے اور میں اگلی چیز کا خیال کرتا ہوں جو آئندہ آنے والی ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ مستورات کی تعلیم اور پھر دینی تعلیم میرے ذمہ ہے اور کامیابی کے لئے یہ نہایت ضروری ہے اور یہ کون انسان برداشت کر سکتا ہے کہ وہ پوری محنت کرے اور پھر وہ ناکام رہے۔“ (انوار العلوم جلد ۹ صفحہ ۹-۱۰) حضرت آپا امتہ الحئی کے علمی ذوق اور پڑھنے پڑھانے کے جذبہ کا ذکر کرتے ہوئے حضور