سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 370
327 عائلی زندگی مغربی تمدن کے اثرات اور ہندوانہ رسم و رواج کے زیر اثر ہندی مسلم معاشرہ میں بہت سی ایسی باتیں اثر انداز ہوگئیں جن کا صحیح اسلامی تمدن سے کوئی تعلق نہ تھا۔حضرت فضل عمر اسلامی تمدن کے قیام کے لئے غیر معمولی جذبہ اور جوش رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے ہر اُس طریق کو نا پسند فرمایا جو کسی دوسری قوم سے مرعوب ہو کر یا ان کے زیر اثر اختیار کیا گیا ہو۔تعد دازدواج کے مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔” ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ عام مسلمانوں نے جو اپنے طرز عمل سے کثرت ازدواج کو بد نام کر رکھا ہے وہ بر خلاف اس کے اپنے عدل وحُسنِ سلوک سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ دو بیویاں کرنا بالکل ممکن العمل اور مستحسن امر ہے۔جن مسلمانوں کی بدسلوکی نے عورتوں کو اس مفید اور واجبی اجازت سے بدظن کر رکھا ہے۔حتی کہ مردوں کی ایسی ہی کمزوریاں اور نا انصافیاں بعض جاہل و بے دین عورت کے ارتداد کا موجب بن جاتی ہیں انہیں خدا کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا کہ ان کی غلط کاری سے دین حق کو ضعف پہنچا اور اس کے پاک نام پر حرف آیا۔“ (الفضل مؤرخہ یکم جولائی ۱۹۱۵ ء صفحہ ۱) اس مسئلہ کو زیادہ واضح کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔میں کثرت ازدواج کا نہ صرف قائل ہوں بلکہ اس پر عامل ہوں اور میرے نزدیک اسلامی احکام کے ماتحت ایک سے زیادہ نکاح کرنے نہ صرف یہ کہ زنا کاری نہیں بلکہ ) اول درجہ کی بُردباری، قربانی ایثار اور تقویٰ کی علامت ہے۔اور کوئی عیاش انسان ان قواعد کے ماتحت دوسرا نکاح