سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 360 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 360

316 میں مجھے لکھا کہ میری سب بیویوں میں امتہ الحئی میری بہت تابعدار بیوی تھی۔آپ کو ان سے بہت محبت تھی۔اور وہ مرحومہ ہم سب سے مجھ سے اور حضرت اماں جان سے تو خصوصاً بہت ہی محبت کرتی تھیں اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے۔خلیفہ اول کی وفات بہت بڑا صدمہ تھا وہ بوجھ دل پر الگ اور اس وقت فتنہ کا فکر جس کی تفاصیل آپ سب کے علم میں ہیں وہ دن اور رات اور اگلا دن جس طرح گذرے اُس کا بیان میں لانا مشکل ہے۔بار بار کبھی باہر کبھی اندر دار السلام میں یہی باتیں، یہی فکر اور یہی ذکر ، یہی تڑپ تھی کہ خلافت رہ جائے کوئی بھی منتخب ہو جس کو چاہیں چن لیں ہم سب بیعت کر لیں گے مگر یہ فتنہ نہ ڈالیں کہ خلافت ہی نہ ہو۔حضرت اماں جان سے بچپن سے بہت مانوس تھے اور آپ کی عزت اور محبت ہر وقت آپ کے آرام کا خیال حضرت مسیح موعود کے وصال کے بعد بہت بڑھ گیا تھا۔ایک بار اماں جان بیمار ہوئیں تو مجھے الگ لے جا کر کہا کہ میں بھی ایک دعا کرتا ہوں تم بھی کرو اور کرتی رہو کہ اب اماں جان کو ہم میں سے خدا تعالیٰ کسی کا غم نہ دکھائے اور اماں جان کی زندگی میں برکت بخشے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت اماں جان سے فرمایا تھا کہ تین امتحان تمہارے اور ہونگے یہ مبارک کی وفات سے پہلے کہا تھا یہ بات حضرت اماں جان سے سنی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت آپ نے فرمایا کہ تین امتحان تھے دو ہو چکے ایک باقی ہے۔اُس وقت جب مجھے یہ بات بتا رہی تھیں تو میرے چھوٹے بھائی کے کپڑے بکس میں رکھ رہی تھیں (سامانِ سفر تیار کرنا تھا یہ لاہور سے سفر واپسی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے وقت کا ذکر ہے ) تو مجھے ہمیشہ چھوٹے بھائی کا بہت فکر رہتا تھا۔مگر پھر با وجود دونوں ماموں جان اور میرے میاں کی وفات کے جب پارٹیشن ہوئی، قادیان چھوڑنا پڑا اُس وقت اماں جان کی تڑپ اور صدمہ دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ تیسرا امتحان یہ تھا۔