سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 329
296 اچھے رنگ میں ذکر تھا۔یہ خط درج ذیل ہے:۔مکرمہ و معظمه جناب والدہ صاحبہ زَادَ هَا اللَّهُ مَجْدَ هَا! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ۔ابھی ہم جہاز میں ہیں اور اللہ تعالیٰ سے امید کرتے ہیں کہ کل صبح عدن پہنچ جائیں گے۔آج ساتواں دن ہے کہ ہم سمندر میں چلے جا رہے ہیں۔اول تو بمبئی ایسے وقت میں پہنچے کہ کھانے پینے کا سامان لینے کا موقع نہ ملا۔پھر جہاز میں سوار ہوئے تو بمبئی سے نکلتے ہی تیز ہوا شروع ہوگئی اور جہاز ڈانواں ڈول ہونے لگا۔ابھی ہم بمبئی سے دس میل نہ نکلے ہوں گے کہ شرابیوں کی طرح سب کے قدم لڑکھڑانے لگے۔ایک ایک کر کے سب کو متلی شروع ہوئی اور اوندھے منہ گرنے لگے۔ڈاکٹر صاحب کو طوفان نے گرسی پر سے گرادیا اور تمام منہ زخمی ہو گیا۔آج تک ان کے منہ پر نشان ہے۔میاں شریف احمد بھی لیٹ گئے اور سب کو قے آنی شروع ہوئی خدا کا فضل رہا مجھے تے نہیں آئی۔بھائی جی اور چوہدری فتح محمد سیال اچھے رہے باقی سب بیمار ہو گئے۔پانچ دن تک برابر یہی کیفیت رہی کہ کبھی سر او پر اور کبھی لاتیں اوپر کبھی اگلا سر جہاز کا آسمان کے ساتھ اور کبھی پچھلا۔بس یہ سمجھ لیں کہ ایک اونچے درخت سے پینگ ڈال کر ایک شخص کو اس پر باندھ دیا جائے اور پچاس ساٹھ آدمی کھڑے ہو کر رات اور دن باری باری اس کو ہلائیں اور ایک منٹ کا سانس نہ لینے دیں اور پانچ دن اسی طرح کرتے رہیں۔جو اچھے تھے ان کے مونہوں پر بھی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔سب صحن میں پڑے تھے کمروں میں جانے کی بھی کسی کو ہمت نہ تھی بعض روتے تھے کہ جن لوگوں نے ہمیں آنے کا مشورہ دیا تھا وہ ضرور بدنیت تھے اور سمندر میں ہمیں مارنے کا ارادہ تھا۔ادھر کھانا انگریزی جس کا سر نہ پیراکثر جھٹکا اور سور۔ماسٹری ہوئی ڈبوں کی مچھلی ورنہ خالی اُبلے ہوئے آلو اور تھرڈ کلاس دالوں کے لئے چونکہ بمبئی سے چیزیں لینے کا موقع نہیں ملا تھا وہ بیچارے فاقہ زدہ۔اول تو دو دو دن تک منہ میں دانہ ڈالنے کی خواہش نہ ہو اور جب ہو تو ملتا کچھ نہیں۔رحم دین بیچارہ خود صاحب فراش۔چہرہ سے اس کے یوں معلوم ہوتا تھا کہ