سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 23
23 فرماتے اور تراکیب و تدابیر سوچتے ہوئے اور نصائح اور مشورے فرماتے اور پھر دوستوں کو مسرور کرنے اور حوصلہ افزائی فرمانے میں مصروف رہتے۔اور سب سے بڑھ کر یہ تھا کہ آپ اس ہستی کی خدمت میں التجا کرتے ہوئے دعا فرماتے جس پر آپ کی تمام امیدوں کا دارو مدار تھا۔ذمہ داری کا بوجھ بہت زیادہ اور مشکل تھا مگر آپ ان سے بلا جھجک نہایت احسن طریق پر عہدہ برآ ہوئے۔ہم میں سے جنہیں اپنی حقیر استطاعت کے مطابق آپ کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہوا ہم اس امر کا بہت خیال رکھتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ ہماری کوئی معمولی سی غلطی آپ کی ذمہ داریوں اور تفکرات پر بہت زیادہ اثر انداز ہو۔ہم اپنا کام پوری توجہ اور محنت سے کرتے تھے لیکن اس کے باوجود ہمیں کبھی تھکان یا خوف کا احساس نہیں ہوا کیونکہ ایسے راہنما کے ساتھ کام کرنے سے ہر دل بڑا حوصلہ اور رفعت محسوس کرتا تھا اور پھر ان کی محبت کے ساتھ ہم سب کو ایک دوسرے کا مکمل تعاون بھی حاصل تھا۔چنانچہ مشتر کہ مقصد کے احساس کی خاطر بے لوث اور پُر خلوص خدمت نے گذرنے والے ہر لمحے کو نہایت قیمتی یادوں کا ایک گنجینہ بنا دیا۔مزید برآں یہ کہ ہمارے محبوب و مقدس را ہنما نہ صرف جماعت اور سلسلہ کی حفاظت میں مصروف تھے بلکہ ان لوگوں میں سے بھی ہر ایک کی حفاظت اور تحفظ کے خواہاں تھے جو اس غلط خیال کی وجہ سے جماعت کے مرکز میں جمع ہو گئے تھے کہ جماعتی نقصان یا تباہی کی صورت میں وہ کوئی بہتر فائدہ حاصل کر سکیں۔آپ کو ان میں سے کسی سے بھی نفرت نہ تھی بلکہ سب کے لئے محبت تھی۔ان میں اکثر بعد ازاں آپ کے مشفقانہ سلوک کی وجہ سے نہایت خلوص، فرمانبرداری اور محبت سے سلسلہ میں داخل ہو گئے۔خطرناک ایام گذر گئے لیکن ہمارے دلوں پر اپنی قیمتی یادوں کے نقوش چھوڑ گئے۔میرے بہادر طالب علم ساتھی میرے ساتھ لاہور واپس آگئے۔وہ بیشتر وقت ڈیوٹی میں مصروف رہے تھے ان میں سے کچھ جن میں میاں عطاء اللہ