سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 328 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 328

بہت اثر ہوتا ہے۔295 والسلام خاکسار مرزا محمود احمد ۵۴-۱۱-۴ حضرت اماں جان کے نام مختصر خط میں اپنی خیر بیت کی اطلاع بھی دیدی اور سب افراد خاندان کی خیریت بھی معلوم فرمائی۔حضرت اماں جان کے فکر اور تشویش کو دور کرنے کا ایک پیارا انداز : - بمبئی پندرہ جولائی ۱۹۲۴ء جناب والدہ صاحبہ مکرمہ لَا زَالَتْ تَحْتَ ظِلَّ حِمَايَتِهِ تَعَالَى! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔یہ خط تو میں ریل میں سے چودہ تاریخ کو لکھ رہا ہوں۔مگر ڈالوں گا اِنْشَاءَ اللہ جہاز میں سوار ہونے کے بعد۔اس وقت اس لئے لکھتا ہوں کہ آگے جہاز میں سوار ہونے تک کوئی وقت فرصت کا نہیں۔امید ہے کہ ہمشیرہ مبارکہ بیگم کو اب آرام ہوگا، ناصر احمد کو بخار تھا نہ معلوم اس کا اب کیا حال ہے۔خدا جانے بمبئی میں ہمیں کوئی خبر خیریت کی بذریعہ تار ملتی ہے یا نہیں۔ہم اِنشَاءَ اللہ جس وقت یہ خط آپ کو ملے گا ہندوستان کے ساحل سے دُور سمندر پر سفر کر رہے ہوں گے۔تلاطم آجکل سخت ہے اور جہاز چھوٹا ہے اللہ تعالیٰ ہی حافظ و ناصر ہو۔اللہ تعالیٰ خیریت سے پہنچائے تو انُشَاءَ اللهُ عدن سے پھر خبر دے سکتے ہیں اور ہمیں خبر پہنچ سکتی ہے یعنی بائیں یا تمھیں کو آپ کو خبر پہنچ سکتی ہے اکیس تاریخ تک جہاز غالبا عدن پہنچے گا۔عزیزہ امتہ الحفیظ بیگم کو السَّلَامُ عَلَيْكُمُ۔بچوں کو پیار اور سلام۔نواب صاحب کو اور میاں عبداللہ خان صاحب کو السَّلَامُ عَلَيْكُم۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہوا اور ہر ایک قسم کی تکلیفوں سے آپ کو محفوظ رکھے۔والسلام خاکسار مرز امحمود احمد (الفضل ۲۸۔اپریل ۱۹۶۶ء) حضور نے حضرت اماں جان کے نام اپنے سفر کے دوران جو خط لکھا اس میں خیریت کی خبر بھی تھی سفر کے حالات بھی تھے ، ایک بہت لطیف مزاح بھی تھا اور دوستوں کی فدائیت کا بھی بڑے