سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 319
285 خان بہادر محمد سلیمان صاحب ، خان ایس جی حسنین صاحب ، شیخ رحمت اللہ صاحب انجینئر جناب جوش ملیح آبادی، خان بہادر کے۔ایم۔حسن شیخ اعجاز احمد صاحب سب حج ، چوہدری بشیر احمد سب حج ، چوہدری نصیر احمد صاحب بی اے ایل ایل بی ، ڈاکٹر ایس اے لطیف صاحب اور سب احباب جماعت دہلی وشملہ حاضر تھے۔(الفضل یکم نومبر ۱۹۳۸ء صفحه ۱) جنوری ۱۹۴۰ء میں حضور سندھ اور دہلی تشریف لے گئے تھے۔قیام کراچی کے سفر سندھ دوران کپتان سلطان احمد کھتا نہ نے حضور کے اعزاز میں چائے کی دعوت دی جس میں اسلامی ممالک کے سفراء اور مقامی و بیرونی معززین نے شرکت کی۔(الفضل ۲۳ فروری ۱۹۴۰ء ) خان بہادر اللہ بخش صاحب وزیر اعظم سندھ نے بھی بڑی عقیدت سے حضور کی دعوت کی جس میں اور معززین کے علاوہ سر غلام حسین ہدایت اللہ وزیر قانون ، پیر الہی بخش ،وزیر تعلیم، مسٹر حاتم علوی، مسٹر جمشید این۔آرمہتہ ایم۔ایل۔اے شامل ہوئے۔( الفضل ۶ مارچ ۱۹۴۰ء ) مئی ۱۹۴۰ء میں بھی حضور کراچی تشریف لے گئے۔آپ کی مشہور دلنشیں عارفانہ نظم ے بیٹھ کر جب عشق کی کشتی میں آؤں تیرے پاس آگے آگے چاند کی ماند تو بھاگا نہ کر اس سفر کی یادگار ہے۔۲۵۔فروری سے ۲۶۔مارچ ۱۹۵۲ء تک حضور سندھ کے دورہ پر تشریف لے گئے۔سندھ کی جماعتوں میں معمول کی مصروفیات کے علاوہ ۲۵۔مارچ کو آپ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف اہم قومی مسائل پر اظہارِ خیال فرمایا۔مہاجر اور مقامی کا مسئلہ ابتداء سے ہی مشکلات پیدا کرتا رہا ہے اور ان میں ابھی اضافہ ہی ہو رہا ہے اور اب تو یہ خوفناک لا نخل صورت اختیار کر گیا ہے۔حضور نے اپنی خداداد فراست سے اس کا نہایت آسان اور قابل عمل حل بتاتے ہوئے فرمایا :- میں تو سمجھتا ہوں کہ مہاجر و انصار کی تفریق کو ختم کرنا چاہئے اور ہمیں اسکی بجائے پاکستان کے لفظ کو استعمال میں لانا چاہئے۔میں ذاتی طور پر تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتا ہوں کہ ہندوؤں نے مسلمان سمجھ کر نکال دیا مگر اللہ تعالیٰ