سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 316 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 316

282 وو ہے۔” میرے دل پران گالیوں کی وجہ سے ایک ناخوشگوار اثر تھا جو احرار ایجی ٹیشن کی وجہ سے ملتی رہی ہیں اور اب بھی مل رہی ہیں کیونکہ گالیاں فتح اور شکست سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ گرا ہوا آدمی زیادہ گالیاں دیا کرتا بہر حال میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ مسلمانوں نے اس موقع پر ہمارے ساتھ اچھا معاملہ نہیں کیا اور مجھے ان کی طرف سے رنج تھا۔شاید میرا گذشتہ سفر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت اسی غرض کیلئے تھا کہ تا میری طبیعت پر جو اثر ہے وہ دُور ہو جائے۔میں نے اس سفر میں یہ اندازہ لگایا ہے کہ میرا وہ اثر کہ مسلمان شرفاء بھی اس گند میں مبتلاء ہیں اس حد تک صحیح نہیں جس حد تک میرے دل پر اثر تھا۔مجھے اس سفر میں ملک کا ایک لمبا دورہ کرنے کا موقع ملا ہے۔پہلے میں سندھ گیا، وہاں سے بمبئی گیا ، بمبئی سے حیدر آباد چلا گیا اور پھر حیدرآباد سے واپسی پر دہلی سے ہوتے ہوئے قادیان آگیا۔اسطرح گویا نصف ملک کا دورہ ہو جاتا ہے۔اس سفر کے دوران میں شرفاء کے طبقہ کے اندرمیں نے جو بات دیکھی ہے اس سے میرے دل میں جو مسلمانوں کے متعلق رنج تھا وہ بہت کچھ دُور ہو گیا اور مجھے معلوم ہوا کہ شریف طبقہ اب بھی وہی شرافت رکھتا ہے جو شرافت وہ پہلے رکھا کرتا تھا اور ان خیالات سے جو احرار نے پیدا کرنے چاہے تھے وہ متاثر نہیں بلکہ ان کی گالیوں کی وجہ سے وہ ہم سے بہت کچھ ہمدردی رکھتا ہے۔اگر مجھے یہ سفر پیش نہ آتا تو شاید یہ اثر دیر تک میرے دل پر رہتا اور میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے اس سفر کا موقع دیا اور وہ اثر جو میرے دل پر تھا کہ اتنے گند میں مسلمانوں کا شریف طبقہ کس طرح شامل ہو گیا وہ اس سفر کی وجہ سے دُور ہو گیا۔حیدر آباد میں میں نے دیکھا کہ جس قدر بھی بڑے آدمی تھے اِلَّا مَا شَاءَ اللہ ، تھوڑے سے باہر بھی رہے ہوں گے ، وہ ان پارٹیوں میں شامل ہوتے رہے جو میرے اعزاز میں وہاں دی لیں۔ان لوگوں میں وزراء بھی تھے ، امراء بھی تھے اور نواب بھی تھے۔چنانچہ نواب اکبر یار جنگ صاحب بہادر نے جو پارٹی دی اس میں بہت سے نواب شامل ہوئے اور سارے سو دوسو کے قریب معززین ہوں گے جوان کی ٹی پارٹی میں گند