سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 300 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 300

278 مشایعت میں گورداسپور کا سفر کیا۔ہر تین مواقع پر سپیشل گاڑی قادیان سے گورداسپور جاتی رہی۔پہلے دو سفر حضور نے بذریعہ کار کئے مگر اس شان سے کہ ڈیڑھ سو سائیکل سوار فدائی نوجوان حضور کی کار کے آگے پیچھے انتہائی احترام و عقیدت کے ساتھ جارہے تھے۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے گورداسپور میں حضرت مسیح موعود کا لنگر جاری فرما دیا۔مخالفین کے منصوبوں کا علم ہو جانے کیوجہ سے کھانا پکانے کا سارا سامان جن میں دس دیگیں بھی شامل تھیں قادیان سے لیکر گئے تھے۔قادیان کی جماعت کے علاوہ پنجاب کے ہر حصہ اور سرحد و کشمیر تک کے احمدی بھی اس موقع پر گورداسپور پہنچے ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی جب عدالت کے کمرے میں داخل ہوئے تو دیوان سنگھ انند صاحب پیشل مجسٹریٹ نے حضور کا پورا احترام کیا اور حضور کو گری پیش کی۔عدالت کی کارروائی سے فارغ ہو کر حضور باہر تشریف لائے تو ہزاروں احمدی پروانہ وار حضور کی گاڑی کے گرد جمع ہو گئے اور حضور کی قیام گاہ یعنی شیخ محمد نصیب صاحب کی کوٹھی تک جو تقریباً چھ فرلانگ کے فاصلہ پر تھی ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے پہنچے۔کھانے کے دوران یہ صورت بھی پیش آئی کہ ہزاروں لوگ کھانا کھا رہے تھے اور ان لوگوں نے وضو اور دوسری ضروریات بھی پوری کرنی تھیں مگر ان کو پریشان کرنے کیلئے احرار کے زیراثر سقوں نے پانی بھرنے سے انکار کر دیا مگر احمدی رضا کاروں نے ایک دُور کے کنویں۔خود پانی بھر لیا اور کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دی۔حضور نے اس موقع پر جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :- ” مومنوں کو مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ ہم دنیا پر غالب آئیں گے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نبی کے ماننے والوں پر زلزلے آئیں گے۔اگر کہا جاتا کہ نبی کے ماننے والوں کیلئے پھولوں کی سیج بچھائی جائے گی تب تو کہا جاسکتا تھا کہ ہمیں مشکلات کیوں پیش آتی ہیں مگر جبکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ انبیاء کی جماعتوں کو کانٹوں پر گزارتا ہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم پر بھی مشکلات آئیں گی ، مصائب آئیں گے مگر آخر کامیابی ہمارے لئے ہے۔آپ لوگ عبادتیں کریں، دعائیں مانگیں اور خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دل میں پیدا کریں۔۔۔۔۔۔آج شہادت تو ختم ہو چکی ہے مگر پھر پرسوں