سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 299
277 حضور کے بعض سفر حضور کے اندرون و بیرون ملک کے بعض سفروں کا ذکر اپنے اپنے مقام پر ہو چکا ہے۔حضور کے سارے سفروں کے حالات تو بجائے خود ایک ضخیم کتاب کے متقاضی ہیں۔تاہم ذیل میں چند سفروں کا ذکر کیا جارہا ہے۔پنچابی محاورہ یا راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان کی سیرت اس کے اخلاق و عادات کا تب پتہ چلتا ہے جب کسی سے لین دین کیا جائے یا اس کے ساتھ سفر میں شرکت کی جائے۔حضور کے سفر خواہ جماعتی اغراض کیلئے ہوں یا ذاتی وجوہ مثلاً بھائی صحت کیلئے کئے گئے ہوں سب میں یہ چیز قدرِ مشترک کے طور پر نہایت نمایاں ہے کہ ان میں خدمت دین کے کام میں کوئی توقف پڑنے کی بجائے اور تیزی آجاتی تھی۔بھائی صحت کیلئے کئے جانے والے سفروں میں ہی حضور کی ملاقات، سیاست، مذہب ، ادب وغیرہ کے ماہرین واکابرین سے ہوتی اور ان ملاقاتوں کے دور رس نتائج اور فوائد جماعت کو حاصل ہوتے۔سفر گورداسپور احراری لیڈر مولوی عطا اللہ شاہ بخاری صاحب پر منافرت پھیلانے کے الزام میں گورداسپور میں سپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں حکومت کی طرف سے مقدمہ دائر کیا گیا۔اس مقدمہ میں محض از راہ شرارت حضور کا نام صفائی کے گواہ کے طور پر لکھوایا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ حضور اور جماعت کو پریشان کیا جائے مگر ہر بلا کیں بلا کیں قوم راحق داده اند اند زیر آن گنج کرم بنهاده خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ تقریب کئی وجوہ سے بہت بابرکت ثابت ہوئی حضور ۲۳، ۲۵ اور ۲۷ مارچ ۱۹۳۵ء کو اس غرض سے گورداسپور تشریف لے گئے۔تمام جماعت بالخصوص جماعت قادیان نے احرار کا مقصد اور ارادہ سمجھ کر نہایت فدائیت اور والہانہ طریق پر حضور کی ////