سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 20
20 پر کچھ بھروسہ کیا جاسکتا تھا یا بعض ایسے ذرائع پر جن کی وجہ سے ہمارا مقصد پورا ہونے کی توقع ہوتی ضلعی حکام کو چاہئے تھا کہ جو نہی انہیں ان کے مقاصد کا علم ہوا تھا وہ جلسہ بند کروا دیتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا شاید وہ صورت حال کا صحیح اندازہ نہ کر سکے۔ایک بہت بھاری اور تکلیف دہ ذمہ داری ان حالات میں جماعت پر عائد ہوتی تھی اور خصوصاً اس کے واجب الاحترام امام پر اس کا سب سے زیادہ بوجھ پڑا۔میں ان دنوں لاہور میں احمد یہ ہوٹل کا وارڈن تھا۔مجھے یہ ہدایات موصول ہوئیں کہ میں ہوٹل کے تمام طلبہ کو ساتھ لیکر قادیان روانہ ہو جاؤں میں نے نماز جمعہ کے بعد اس کا اعلان کیا اور طلبہ سے درخواست کی کہ وہ میرے ہمراہ بٹالہ جانے والی شام کی گاڑی میں سوار ہو جا ئیں۔یونیورسٹی کے امتحانات نزدیک تھے اور نصف طلبہ اس میں شامل ہو رہے تھے لیکن اس کے باوجود کوئی بھی ایسا طالب علم نہ تھا جو گاڑی میں سوار ہونے سے رہ گیا ہو۔شیخ بشیر احمد صاحب جو اس وقت ہوٹل میں رہائش پذیر تھے وہ ایک دن کے لئے اپنے گھر گوجرانوالہ گئے ہوئے تھے شام کے وقت وہ لاہور واپس لوٹے اور ریلوے اسٹیشن پر اپنے ہوٹل کے ساتھیوں کو دیکھ کر وہ ان کے پاس آئے اور مقصد دریافت کیا۔علم ہونے پر انہوں نے وہیں بٹالہ کا ٹکٹ خریدا اور ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔گاڑی آدھی رات کے لگ بھگ بٹالہ پہنچی تو چند کم عمر نو جوانوں نے کہا کہ قادیان کی جانب گیارہ میں چلنے سے قبل چند گھنٹے توقف کرنا چاہئے میں نے کہا کہ میرے خیال میں بغیر کسی قسم کی تاخیر کئے ہمیں فوراً قادیان کی جانب چل پڑنا چاہئے چنانچہ ہم فوراً ہی قادیان کی طرف روانہ ہو گئے (اسی واقعہ کے ایک اور راوی نے اسے بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ابھی سفر جاری رکھنے یا کسی قدر وقفہ کرنے کی بات چل ہی رہی تھی کہ کسی نے بتایا کہ محترم امیر صاحب ، حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب، پیدل سفر شروع کر چکے ہیں اور کافی آگے نکل گئے ہیں۔باقی سب افراد بھی فوراً چل پڑے۔اور صبح کی پو پھوٹنے سے قبل ہی ہم وہاں پہنچ گئے۔اس قدر صبح سویرے سارا قصبہ بیدار اور چوکس تھا۔نماز فجر ہم نے ادا کی اور نماز کے