سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 297 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 297

275 حضور کی نکتہ رسی فرمایا: - لوسٹیشنوں پر قوموں کی حرکت دیکھنے کا ذریعہ سٹیشن ہوتے ہیں جہاں پر لوگ آنے جانے کے لئے جمع ہوتے ہیں اور جہاں پر پتہ لگ جاتا ہے کہ قوم کے اندر کیسی حرکت پائی جاتی ہے۔تجارتیں کرنے والوں کو ادھر اُدھر آنا جانا پڑتا ہے، ملازمتوں والے بھی اِدھر اُدھر دورے کرتے ہیں ، صنعت وحرفت والوں کو بھی اپنے کام کے لئے دورے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے سٹیشنوں اور ریلوں کے ذریعہ پتہ لگ جاتا ہے کہ کسی قوم میں آبادی کے لحاظ سے حرکت پائی جاتی ہے یا نہیں۔فلسطین کے ریلوے سٹیشنوں پر مجھے اسبات کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور میں نے آبادی کے لحاظ سے دس فیصدی یہودیوں کو سٹہ نوے فیصدی کی تعداد میں دیکھا اور آبادی کے لحاظ سے نوے فیصدی مسلمان اور عیسائی سٹیشنوں پر دس فیصدی نظر آئے۔یہ کوئی معمولی فرق نہیں بلکہ ایسا فرق ہے کہ شاید خطہ زمین پر اور کسی جگہ نظر نہیں آ سکتا پس قوموں میں حرکت بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں سفر کرنے اور سیر فی الارض کا بار بار ذکر آتا ہے“ الفضل ۱۲؍ مارچ ۱۹۴۵ء صفحه ۲) ان ساری خوبیوں کے ساتھ ساتھ آپ کے کردار کی عظمت کا اس امر سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اگر آپ کے علم میں آپ کی کوئی غلطی لائی جاتی تو آپ اس پر اصرار کرنے یا اس کی تاویل کرنے کی بجائے اس کا اقرار کرتے اور تصحیح بھی فرماتے : ۱۹۲۲ ء یا ۱۹۲۸ء کے درس القرآن کے موقع پر میں نے عرش کے متعلق ایک نوٹ دوستوں کو لکھوایا جو اچھا خاصہ لمبا تھا مگر جب میں وہ تمام نوٹ لکھوا چکا تو شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی یا حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک حوالہ نکال کر میرے سامنے پیش کیا اور کہا کہ آپ نے تو یوں لکھوایا تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام نے یوں فرمایا ہے میں نے اس حوالہ کو دیکھ کر اسی وقت دوستوں سے کہدیا کہ میں نے عرش کے متعلق آپ لوگوں کو جو کچھ لکھوایا ہے وہ غلط ہے اور اسے اپنی کاپیوں میں سے کاٹ ڈالیں۔۔