سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 294
272 قطاروں میں کھڑے تھے۔حضور نے ٹرین سے نیچے اُتر کر ہر ایک سے مصافحہ کیا اور مصافحہ کے دوران میں چوہدری اعظم علی صاحب سب حج درجہ اول ہر آدمی کا تعارف کراتے جاتے تھے کہ ایک دوست کا نام چوہدری اعظم علی صاحب نے محمد جہاں بتایا اس دوست کے پاس حضور کھڑے ہو گئے اور پوچھا کہ آپ کا نام محمد جعفر نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضور میرا نام محمد جعفر ہی ہے۔اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ حضور! میں نام ادا نہیں کر سکا۔لاکھوں کی جماعت کے امام کو اپنے خدام کے اس طرح نام یاد ہونا حیرت انگیز چیز تھی (الفضل ۸۔اپریل ۱۹۴۸ء) اسی سلسلہ میں حضور کا ارشاد ہے:- اگر کوئی پرانی بات بھی میرے مطلب کی ہو تو مجھے ہمیشہ یاد رہتی ہے اگر چہ یوں میرا حافظہ قدرتی طور پر سمجھو یا صحت کی خرابی کی وجہ سے یا افکار کی زیادتی اور کاموں کی کثرت کی وجہ سے چیزوں کو زیادہ یاد نہیں رکھ سکتا مگر کام کی چیز مجھے ۲۰ سال کے بعد بھی یاد رہتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اسے پڑھتے یا سنتے وقت میں نے اس طرف دماغ کو متوجہ کیا تھا۔دفتر ڈاک میں کام کرنے والے جانتے ہیں کہ بعض دوستوں کے خطوط کے جواب جب میں دو دو تین تین ماہ کے بعد لکھواتا ہوں تو میں افسر ڈاک کو بتا دیتا ہوں کہ اس نے یہ نہیں لکھا بلکہ یہ لکھا ہے اور آپ غلطی کر رہے ہیں۔وہ مجھے نہیں بھولتی پس میں اپنے تجربہ کی بناء پر بھی اور اس علم کی بناء پر بھی جو خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت اور دماغ کے متعلق مجھے دیا ہے اور بغیر اس کے متعلق کوئی کتابیں پڑھنے کے مجھے ایسا باریک علم عطا کیا ہے کہ بسا اوقات وہ الہام کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔انسان کی شکل دیکھتے ہی اس کے تأثرات ، جذبات، احساسات ایسے باریک طور پر میرے دل پر منکشف ہو جاتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ الہام خفی ہوتا ہے۔اگر چہ جلی الہام نہیں کیونکہ یہ علوم میں نے نہیں پڑھے پس اس علم کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر علم صحیح طور پر حاصل کریں یا کرائیں تو ہم وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو دوسرے نہیں کر سکتے (الفضل ۹ جون ۱۹۳۲ء صفحہ ۷ )