سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 285 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 285

263 نوٹوں کا کام شروع کیا اور فکر تھا کہ یہ کس طرح کروں گا مگر اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ نوٹوں کی تیاری میں بہت آسانی ہو گئی۔حوالے وغیرہ بہت جلد جلد ملتے گئے اور ۲۵ کی شام کو تینوں لیکچروں کے نوٹوں سے میں فارغ ہو چکا تھا۔یہ بھی ایک وجہ ہے کہ مجھے زیادہ کوفت نہیں ہوئی الفضل ۱۴ جنوری ۱۹۴۱ء صفحه ۱-۲) ایک اور موقع پر حضور نے فرمایا : - میری کئی راتیں ایسی گزری ہیں کہ میں نے رات کو عشاء کے وو بعد کام شروع کیا اور صبح کی اذان ہوگئی تم یہ کیوں نہیں کر سکتے۔اب بھی میرا یہ حال ہے کہ میری اس قدرعمر ہو گئی ہے چلنے پھرنے سے میں محروم ہوں ، نماز کے لئے مسجد میں بھی نہیں جا سکتا، لیکن چار پائی پر لیٹ کر بھی میں گھنٹوں کام کرتا ہوں۔پچھلے دنوں جب فسادات ہوئے میں ان دنوں کمزور بھی تھا اور بیمار بھی لیکن پھر بھی رات کے دو دو تین تین بجے تک روزانہ کام کرتا تھا۔۶ ماہ کے قریب یہ کام رہا۔جو لوگ ان دنوں کام کر رہے تھے وہ جانتے ہیں کہ کوئی رات ہی ایسی آتی تھی جب میں چند گھنٹے سوتا تھا۔اکثر رات جاگتے جاگتے کٹ جاتی تھی۔نوجوانوں کے اندر تو کام کرنے کی اُمنگ ہونی چاہئے“ (الفضل ۹ رفروری ۱۹۵۵ء) کام کی لگن اور محنت کی وجہ سے حضور کی استعدادوں میں خاص جلا پیدا ہو گئی تھی جس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- فکر کا ایک مقام ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک وقت میں دو دو تین تین کاموں میں مشغول رہتا ہے۔نماز بھی پڑھ رہا ہوتا ہے اور قوم کے کاموں میں بھی مصروف ہوتا ہے۔مجھے کئی دفعہ لوگ ملنے کے لئے آتے ہیں میں بعض کا غذات دیکھ رہا ہوتا ہوں وہ خاموش ہو جاتے ہیں تا میں اپنے کام سے فارغ ہو جاؤں لیکن میں انہیں کہتا ہوں کہ بات کریں میں آپ کی بات بھی سنتا جاؤں گا اور اپنا کام بھی کرتا جاؤں گا اور یہ چیز میرے لئے ممکن ہوتی ہے میں کھانا کھاتے ہوئے بھی سوچ رہا ہوتا ہوں ، پانی پیتے ہوئے بھی سوچ رہا ہوتا ہوں ، پیشاب کرتے