سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 277
254 حضور فرماتے ہیں :- اب ہماری جماعت خدا کے فضل سے اتنی بڑھ چکی ہے اور اتنی طاقت پکڑ چکی ہے کہ اس کے پاس چندے کے علاوہ آمد کے اور بھی ذرائع ہیں اور وہ آمد خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر سال بڑھتی چلی جاتی ہے۔چندے کے سارے روپے کو اشاعتِ اسلام پر لگا دینے کے باوجود پھر بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری دوسری آمدنیوں سے اتنا رو پیل سکتا ہے اور ملنا شروع ہو گیا ہے جس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایسے حقوق پر جن کا ملنا جماعت کی ترقی کے لئے ضروری ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے روپیہ خرچ کر سکتے ہیں اور ایسی سکیمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے سامنے ہیں کہ جن کے بعد ہماری یہ ترقی خدا تعالیٰ کے فضل سے اور بھی بڑھ جائے گی۔یہ تو ہزاروں کے خرچ پر شور مچاتے ہیں حالانکہ جو مقصد ہمارے سامنے ہے اور جس کام کا ہم نے بیڑا اٹھایا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہزاروں کا بھی سوال نہیں اربوں ارب روپیہ خرچ آئے گا۔ہم نے دنیا میں یو نیورسٹیاں بنانی ہیں ، کالج اور سکول بھی بنانے ہیں اور ہم نے دنیا میں مبلغین کا جال بھی پھیلانا ہے۔ان کے لئے اربوں ارب روپیہ کی ضرورت ہوگی بلکہ ہم تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی طاقت کے امیدوار ہیں کہ جس کا مقابلہ بڑی بڑی حکومتیں بھی نہ کر سکیں۔چندے کی غرض صرف یہی نہیں ہوتی کہ روپیہ فراہم ہو جائے بلکہ یہ بھی ہوتی ہے کہ انسان کے اندر احساس پیدا ہو جائے کہ اس کام کو پورا کرنا میرے ذمہ الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۴۶ ء صفحه ۳،۲) ہے۔" چندے کے نظام کو وسیع کرنے اور نو مسلموں کو بھی مالی قربانی کی لذت سے آشنا کرنے کی تحریک کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔دینی لحاظ سے بے شک پاکستان کے لوگ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں لیکن اگر انکے ساتھ ایک ایک ممبر نائیجیریا، گولڈ کوسٹ ،مشرقی افریقہ، ہالینڈ، جرمنی اور انگلستان وغیرہ ممالک کا بھی ہو تو کام زیادہ بہتر رنگ میں چل سکتا ہے۔جب یہ لوگ یہاں آکر کام کریں گے تو باہر کی جماعتوں کو اس طرف زیادہ توجہ ہوگی اور