سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 263 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 263

ضرورت نہیں۔240 حضور کی خدمت میں بڑی عقیدت و محبت سے جو نذرانے پیش کئے جاتے تھے ان میں سے دو لاکھ روپے کی قیمتی جائداد کا اوپر ذکر آچکا ہے اور اسی سے پتہ چل جاتا ہے کہ حضور کے نزدیک ان کا مصرف کیا تھا۔اس سلسلہ میں اپنا طریق کاربیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- میں مارچ ۱۹۱۴ ء میں خلیفہ ہوا ہوں اور اس وقت میری خلافت پر ۳۸ سال گزر چکے ہیں تم ہی بتاؤ میں نے اتنے عرصہ میں خزانہ سے کیا لیا ہے؟ آخر میں تمہیں توجہ دلاتا ہوں ، ڈراتا ہوں اور ہوشیار کرتا ہوں تو اس لئے نہیں کہ اس میں میرا کچھ فائدہ ہے میں تمہیں اس لئے توجہ نہیں دلاتا کہ سلسلہ کے مال میں میرا کوئی حصہ مقرر ہے یہ نہیں کہ ۸ لاکھ آمد ہوگی تو ایک لاکھ میرا ہوگا، بارہ لاکھ آمد ہوگی تو ڈیڑھ لاکھ میرا ہوگا ، مجھے سلسلہ کے مال سے کوئی حصہ نہیں ملتا جس کی وجہ سے میں تمہیں ڈراتا ہوں۔میں ۲۵ سال کی عمر کا تھا جب خلیفہ ہوا اب ۶۳ سال کا ہوں اب تک میں نے خزانہ سے کیا لیا ہے جس کی وجہ سے کسی کو شبہ ہو کہ میں نے یہ بات کسی غرض کی وجہ سے کہی ہے۔میں نے جماعت کو کچھ دیا ہے لیا نہیں۔پچھلے دنوں کسی شخص نے میرے متعلق جھوٹ بولا کہ میں جماعت کا چندہ کھا گیا ہوں تو میں نے اپنے چندے کا حساب نکلوایا تو معلوم ہوا کہ میں صرف تحریک جدید کو پچھلے ۱۸ سالوں میں دو لاکھ سے زائد روپیہ دے چکا ہوں پس میں جب تمہاری مالی حالت کی طرف توجہ دلاتا ہوں تو اپنے فائدہ کے لئے نہیں صرف تمہارے فائدہ کے لئے کچھ کہتا ہوں۔تمہیں میں نے کم کہا ہے گو کہا ہے لیکن صدر انجمن کے کا غذات نکال کر دیکھ لو کوئی تاریخ دان انہیں پڑھے گا تو وہ حیران ہوگا۔درجنوں صفحات ایسے نکلیں گے جن میں میں نے صدر انجمن احمدیہ کو توجہ دلائی ہوگی کہ اپنے آپ کو بچاؤ ورنہ تمہارا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔خطبات محمود نمبر ا خطبہ نمبر ۴۲ صفحه ۴۵۵) حضور کی خدمت میں جو نذرانے بڑی عقیدت سے پیش کئے جاتے ان کے متعلق حضور فرماتے ہیں :- وو بعض لوگ اپنی خوشی سے کبھی کبھی ہدایا ضرور پیش کر دیتے ہیں۔