سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 248
225 66 کی تربیت ہوتی ہے۔“ (الفضل ۲۳۔دسمبر ۱۹۲۰ء خطبات محمود جلد ۶ صفحه ۵۷۸) پس میں آپ لوگوں کو۔۔۔۔۔۔تاکید کرتا ہوں کہ آپ کے ہاں مہمان آئیں گے آپ لوگ خوشی کے ساتھ ان کی خدمت کریں۔۔۔اگرتم پر کسی مہمان کی طرف سے کوئی سختی بھی ہو تو اس کو بھی برداشت کرنا چاہئے کیونکہ جو شخص مہمان کو ذلیل کرتا ہے وہ بڑا ہی کمینہ ہے۔لوگ دنیاوی باتوں میں کہا کرتے ہیں کہ ناک کٹ گئی حالانکہ ان باتوں میں تو ناک نہیں کٹتی لیکن جو شخص مہمان کو ذلیل کرتا ہے اس کی یقیناً ناک کٹ جاتی ہے۔مہمان نوازی انبیاء کی خاص صفت ہوتی ہے اس لئے ان کے متعلقین میں بھی اس کا ہونا ضروری ہے“ خطبات محمود جلد ۵ صفحه ۶۱۷٬۶۱۶) غرباء کی مدد اور بھوکوں کو کھانا کھلانا ہمیشہ آپ کی ترجیحات میں شامل رہا اور آپ ہر حاجت مند کی حاجت روائی کرنا اپنے لئے لازم سمجھتے تھے۔جماعت میں ہزاروں افراد ایسے موجود ہیں جنہیں بغیر کسی اعلان کے چپکے چپکے ضروری امداد پہنچ جاتی تھی اور اس طرح ان کی عزت نفس کو پہنچ جاتی اور اس مجروح کئے بغیر ان کی حاجت روائی کی جاتی تھی۔حضور فرماتے ہیں :- ہر شخص کو اپنے اپنے محلہ میں اپنے ہمسائیوں کے متعلق اس امر کی نگرانی کرنی چاہئے کہ کوئی شخص بُھو کا تو نہیں اور اگر کسی ہمسائے کے متعلق اسے معلوم ہو کہ بھوکا ہے تو اس وقت تک اسے روٹی نہیں کھانی چاہئے جب تک وہ اس بھوکے کوکھانا نہ کھلائے۔۔۔۔۔۔اگر سب لوگ یہ پختہ عہد کر لیں کہ انہیں اپنے ہمسایہ میں اگر کسی شخص کے بھوکا رہنے کا علم ہوا تو وہ خود کھانا نہیں کھائیں گے جب تک اسے نہ کھلا لیں بلکہ اگر انہیں خود بھوکا رہنا پڑا تو وہ بھو کے رہنے کے لئے تیار ہوں گے تو اس کے نتیجہ میں قوم میں جرات و بہادری پیدا ہو جائے گی (الفضل ۱۱۔جون ۱۹۴۵ء صفحه ۴ ) تحریک جدید کی اغراض میں سے ایک غرض غربت کا خاتمہ بھی ہے آپ فرماتے ہیں:۔اس تحریک ( تحریک جدید ) کا ایک پہلو یہ تھا کہ میں غربت اور امارت کا امتیاز جماعت سے مٹاؤں اور جماعت کو مل کر کام کرنے کی عادت ڈالوں اور میں سمجھتا ہوں جس دن یہ امتیاز مٹا اس دن حقیقی رنگ میں جماعت متحد ہوگی۔