سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 214
210 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی قاضی صاحب! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد گورنمنٹ پنجاب اور حکومت ہند کے پاس رحم کی اپیل کی گئی اور گورنر صاحب اور وائسرائے دونوں نے اس اپیل کورڈ کر دیا اور اس کی بڑی وجہ جہاں تک میں سمجھا ہوں اس وقت کے سیاسی حالات ہیں وہ ڈرتے ہیں کہ اگر اس مقدمہ میں دخل دیں تو ان لوگوں کے بارے میں بھی دخل دینا پڑتا ہے جو سیاسی شورش میں پھانسی کی سزا پا چکے ہیں۔اب صرف ایک ہی راہ باقی تھی اور وہ پر یوی کونسل میں اپیل تھی سوا پیل اب دائر ہے اور اس ماہ میں اس کی پیشی ہے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا اسلئے میں پیشتر اس کے کہ اس اپیل کا فیصلہ ہو آپ کو بعض امور کے متعلق لکھنا چاہتا ہوں۔(1) جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں۔میرا یہ یقین ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینا ہمارے طریق کے خلاف ہے اس لئے جس حد تک بھی آپ سے غلطی ہوئی ہے اس کے متعلق آپ کو تو بہ اور استغفار سے کام لینا چاہئے اللہ تعالیٰ نے جب ایک قانون بنایا ہے تو یقیناً اس نے ہمارے لئے ایسے راہ بھی بنائے ہیں کہ بغیر قانون شکنی کے ہم اپنی مشکلات کا حل سوچ سکیں۔(۲) خواہ آپ سے غلطی ہی ہوئی لیکن چونکہ آپ نے جو کچھ کیا ہے جہاں تک مجھے علم ہے محض دین کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے لئے کیا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر توکل سے کام لیں۔تو وہ نہ صرف یہ کہ آپ سے عفو کا معاملہ کرے گا بلکہ آپ کو اپنے اخلاص کا بھی اعلیٰ بدلہ دے گا۔(۳) غیب کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ آپ سے رحم کا معاملہ کرے گا اور آپ کے بچاؤ کی کوئی صورت پیدا کر دے گا لیکن اس کی مشیت پر کسی کوحکومت نہیں اس پر کوئی شک نہیں کہ آپ کو براءت کی خواہیں آئی ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی براءت اور رنگ میں ہوتی ہے۔اس کی طرف سے یہ بھی ایک براءت