سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 200 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 200

196 فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ میں نے پھر کہا کہ لڑکیاں تو فوج میں بھرتی نہیں ہوتیں۔اس نے کہا۔آپ تو میری بات سمجھے ہی نہیں۔میں نے اپنے ابا کو لکھا ہے۔کہ انہیں اجازت دے دیں کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں۔تب مجھے سمجھ آئی کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔درحقیقت ہماری ہندوستانی عورت شرم کی وجہ سے اپنے خاوند کا نام نہیں لیا کرتی۔اس نے بھی اپنے خاوند کا نام تو نہ لیا صرف یہ کہا کہ میں نے اپنے ابا کو لکھا ہے کہ وہ انہیں فوج میں بھرتی کرا دیں۔مطلب یہ تھا کہ میں نے اپنے خاوند کے متعلق انہیں لکھا ہے کہ وہ انہیں بھرتی کرا دیں۔مگر چونکہ ہماری عورتیں شرم کے مارے اپنے خاوند کا نام نہیں لیتیں اس لئے اس کی بات سن کر پہلے تو میں سمجھا کہ شاید اس نے اپنے ابا کولکھا ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں پھر جب میں نے کہا کہ وہ تو بوڑھے ہیں۔تو اس نے جواب دیا جس سے میں یہ سمجھا کہ شاید اس نے اپنے متعلق یہ لکھا ہے کہ مجھے فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دے دیں اور جب اس کے متعلق بھی میں نے کہا کہ عورتیں تو فوج میں بھرتی نہیں ہوتیں۔تب اس نے جو جواب دیا اس سے میں یہ سمجھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جس کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے، جس کا ابھی رخصتانہ بھی نہیں ہوا چاہتی ہوں کہ سلسلہ کی روایات کو قائم رکھنے کے لئے اپنے خاوند کو فوج میں بھجوا دوں اور اس کے متعلق میں نے اپنے ابا کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ انہیں فوج میں بھرتی کرا دیں۔تب میں نے سمجھا کہ اگر ایک کمزور دل عورت اس قسم کی بہادری دکھا سکتی ہے اور وہ اپنے سہاگ کے آنے سے پہلے ہی اس کو لٹانے کے خطرہ میں ڈال سکتی ہے تو مجھے امید رکھنی چاہئے کہ ہماری جماعت کے دوسرے افراد بھی ایسی ہی جرأت اور بہادری دکھا ئیں گے۔پھر مجھے ان دوستوں نے جو بھرتی کے لئے باہر دورہ پر گئے ہوئے تھے سنایا کہ ایک عورت جس کا ایک ہی بچہ تھا وہ اسے لائی اور کہنے لگی۔میرے اس بچہ کو احمد یہ کمپنی میں بھرتی کیا جائے۔وہ کہتے ہیں۔ہم نے اسے کہا مائی تیرا ایک ہی بچہ ہے تو اس کو بھرتی نہ کرا جن کے دو دو تین تین بچے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنا ایک ایک بچہ بھرتی کرا دیں مگر اس نے اصرار کیا اور کہا کہ میں اسے ضرور بھیجوانا چاہتی ہوں اور کہا کہ