سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 189 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 189

185 ہوگا۔چاہئے۔۔پھر روحانیت کی تعلیم ہے۔اخلاقی تعلیم کے بعد اس کا درجہ شروع ہوتا ہے۔روحانی تعلیم سے باطن کی صفائی ہوتی ہے۔۔پھر ہمیں موجودہ نسل کی ہی اصلاح نہیں بلکہ یہ بھی کرنا ہے کہ آئندہ نسلوں کی حفاظت کا بھی انتظام کریں لیکن اگر سلسلہ کا انتظام اعلیٰ چٹان پر قائم نہیں تو اگر آج نہیں تو کل اس کی موت ہو جائے گی۔جس طرح آئیڈیل مین کہتے ہیں اسی طرح چاہئے کہ ہم آئیڈیل مسلم بنا ئیں اور یہ کوشش کریں کہ ہر احمدی ایسا ہو اور جو آئندہ پیدا ہو وہ بھی ایسا ہی ہو بلکہ یہ کہ آئندہ نسلیں بڑھ کر ہوں مومن کو جرات و دلیری پیدا کرنی رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحه ۲۵ تا ۲۷) ایک دُوراندیش معلم اخلاق آئندہ نسلوں کے اخلاق کی اصلاح کے لئے بطور نصیحت فرماتا ہے:۔مجھے ڈر ہے تو اس بات کا ہے کہ ہماری نسلیں جب تاریخ میں انکے ان مظالم کو پڑھیں گی اس وقت ان کا جوش اور اُن کا غضب عیسائیوں کی طرح ان کو کہیں اخلاق سے نہ پھیر دے۔اس لئے میں آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ ان کو ہماری ان حقیر خدمات کے بدلے میں حکومت اور بادشاہت عطا کرے گا تو وہ ان ظالموں کے ظلموں کی طرف توجہ نہ کریں جس طرح ہم اب برداشت کر رہے ہیں وہ بھی برداشت سے کام لیں اور وہ اخلاق دکھانے میں ہم سے پیچھے نہ رہیں بلکہ ہم سے بھی آگے بڑھیں وو الفضل ۱۹۔فروری ۱۹۲۵ء صفحہ ۷ ) نیکی اور تقویٰ کے مقام اور تو ازن و اعتدال کو مد نظر رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- دو ہمیں چاہئے کہ ہم نیکی و تقویٰ پر زیادہ سے زیادہ قائم ہوتے چلے جائیں اور اپنے اخلاق کو درست رکھیں اگر دشمن کسی مجلس میں ہنسی اور تمسخر سے پیش آتا ہے تو اس مجلس سے اٹھ کر چلے آؤ یہی خدا کا حکم ہے جو اس نے ہمیں دیا مگر بے ہودہ غصہ اور نا واجب غضب کا اظہار بے وقوفی ہے۔اگر اس وقت جب کہ تم کمزور ہو اور تمہاری مثال دنیا کے مقابلہ میں بنتیس (۳۲) دانتوں میں زبان کی سی ہے مخالفین کی حرکات پر تمہیں غصہ آتا ہے اور تم اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتے تو یا درکھو جب ہمیں بادشاہت حاصل ہوگی اس وقت ہمارے آدمی دشمنوں پر