سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 184
180 میں کر سکتا ہوں یا میرا خدا اور وہ بلا وجہ نہیں۔اگر وہ میرے دل میں اتنی شدید ہے تو حضرت مسیح موعود کے دل میں اور پھر آنحضرت صلی اللہ و آلہ سلم کے دل میں کتنی ہو گی۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی محبت کی آگ دیتا ہے وہ بھی ایک دوزخ میں جل رہے ہوتے ہیں مگر وہ دراصل حقیقی جنت ہوتی ہے۔خوب یا درکھو کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اسلام کے رستہ میں کھڑی ہونے والی چیز میں قائم رہ سکیں وہ یقیناً تباہ و برباد ہوں گی اور ان کو اختیار کرنے والے بھی تباہ و برباد ہونگے اور ان لوگوں کی خاطر جو حضرت مسیح موعود پر ایمان لائے ہیں اور بظاہر بالکل سادہ ہیں، زمیندار لوگ ہیں جو تہہ بند باندھتے اور اچھی طرح بات بھی کرنا نہیں جانتے انہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کی تباہی کا کام لے گا اور موجودہ تہذیب مٹ کر ان کے ہاتھوں میں دنیا کی رہنمائی آجائے گی۔آج کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ لوگ دنیا کا انتظام کیسے کر سکیں گے لیکن کیا انہوں نے پنجابی کی یہ ضرب المثل نہیں سنی کہ جدی کوٹھی دانے اُسدے کملے وی سیانے“ خدا تعالیٰ جب برتری دیتا ہے تو ,, عقل خود بخودآ جاتی ہے“ خطبات جلد ۳ صفحه ۴۶۰-۴۶۱) اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے مقابلہ پر مغربیت کو سب سے بڑی روک قرار دیتے ہوئے حضور فرماتے ہیں : - تحریک جدید کے ماتحت میں نے مغربیت کے ازالہ کی بھی کوشش کی ہے چنانچہ میں نے کہا آؤ اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کرو اور وقف بھی اس طرح کہ خود کماؤ مگر خدمت دین کی کرو یا اس قسم کی اور بھی کئی مثالیں ہیں جیسے لباس میں سادگی ، مکانات کی آرائش وزیبائش پر فضول اخراجات نہ کرنا، کفایت کو ہر کام میں ملحوظ رکھنا ، عورتوں کا گوٹہ کناری کو ترک کرنا، یہ تمام باتیں ایسی ہیں جو مغربیت کے ازالہ کے لئے میں نے تجویز کی ہیں اور میں سمجھتا ہوں جس دن ہم مغربیت کو کچل دیں گے اس دن اسلام کی دوبارہ زندگی کے آثار پیدا ہو جائیں گے کیونکہ مذہب ہمارے رستہ میں روک نہیں بلکہ ہمارے رستہ میں سب سے بڑی روک مغربیت ہے“ الفضل ۸ فروری ۱۹۳۶ء صفحه ۱۳) ضرورت کے وقت کسی بھائی کی مددکرنا اور اسے قرض دینا ایک نیکی اور کار خیر ہے مگر دیکھنے