سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 177 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 177

173 میں ایسی لیبارٹری کا تیار کرنا ایک قسم کا معجزانہ رنگ رکھتا ہے۔ڈاکٹر ایس ایس بھٹنا گر نے فضل عمر ریسرچ قادیان کا افتتاح فرمایا۔۔۔اس موقع پر حضور نے فرمایا کہ اس قسم کی انسٹی ٹیوٹ جاری کرنا معمولی بات نہیں اس کے لئے بہت بڑے سرمایہ کی ضرورت ہے۔حضور نے فرمایا کہ یہ انسٹی ٹیوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جاری کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں تضاد نہیں ہوتا۔۔۔66 (الفضل ۲۰۔اپریل ۱۹۴۶ء ) تقسیم برصغیر کے بعد جبکہ کالج کی عمارت اور جماعت کے اکثر وسائل اور ذرائع قادیان میں رہ گئے تھے۔حضور نے چوہدری محمد علی صاحب کو فوراً پاکستان بھجوانے کی ہدایت جاری فرمائی ان کے یہاں پہنچتے ہی انہیں قائم مقام پرنسپل مقررفرمایا اور کالج کے لئے موزوں جگہ تلاش کرنے کا ارشادفرمایا۔لاہور میں صدر انجمن کے عارضی مرکز جودھامل بلڈنگ کے متصل سیمنٹ والی عمارت میں مکرم عبد الرحمان جنید ہاشمی نے چٹائی پر اپنا دفتر شروع کیا ۱۰۔دسمبر سے داخلہ شروع ہوا جس کی روزانہ رپورٹ حضور کی خدمت میں بھجوائی جاتی تھی۔جن مشکل حالات میں ہمارے اولوالعزم امام نے اس بہت بڑے کام کو دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ فرمایا اس کا کسی قدر علم مکرم چوہدری محمد علی صاحب کے مندرجہ ذیل بیان سے ہوتا ہے۔و میں نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں عرض کی کہ پرنسپل صاحب نے قادیان سے ایک مشورہ بھیجا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر حضور مناسب خیال فرمائیں تو موجودہ حالات میں کالج کا بوجھ جماعت پر نہ ڈالا جائے اس پر حضور خاموش رہے پھر حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے عرض کیا کہ حضور میرا بھی یہی خیال ہے۔حضور پھر بھی خاموش رہے پھر کسی اور نے مشورہ دیاحتی کہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرا بھی یہی خیال ہے اس پر اللہ تعالیٰ کے اولوالعزم خلیفہ نے اتنے جوش اور بلند آواز سے کہ سب کے دل دہل گئے فرمایا۔آپ کو پیسوں کی کیوں فکر پڑی ہوئی ہے کالج چلے گا اور کبھی بند نہیں ہوگا اور پھر اس عاجز سے فرمایا کہ: آسمان کے نیچے پاکستان کی سرزمین میں جہاں کہیں بھی جگہ ملتی ہے لے لو