سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 164
160 ہوشیار آدمی ہوں۔جو گند ذہن لڑکے ہیں وہ ہر میدان میں جا کر شکست کھاتے ہیں مگر ذہین اور ہوشیارلڑ کے ہر میدان میں اول رہتے ہیں۔اول نمبر کے مقابلہ میں جو دوسرے نمبر پر ہوگا یقیناً ہار جائے گا اور اول نمبر والا جیتے گا۔غرض دوسرے نمبر کی چیز دنیا میں کبھی زندہ نہیں رہ سکتی وہی چیز زندہ رہ سکتی ہے جو اول نمبر پر ہو۔“ الفضل۔مارچ ۱۹۴۶ء صفحہ ۳) عورتوں میں تعلیم کا فروغ عورتوں کی تعلیم و تربیت کی طرف آپ کی خصوصی توجہ کا پہلے ذکر ہو چکا ہے تاہم اس اہم اور بنیادی مقصد کے حصول کے لئے آپ نے جس طرح زندگی بھر جہاد فرمایا وہ آپ کی سیرت کا بہت ہی درخشاں پہلو ہے۔آپ نے اسلامی تمدن کے قیام و احیاء کے لئے ایک سے زیادہ شادیاں کیں تو بنیادی مقصد یہی تھا کہ اس ذریعہ سے عورتوں کی تعلیم و تربیت کا کام ہوتا رہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کی نیت اور ارادے میں برکت عطا فرمائی اور آپ کی تمام بیگمات کو جماعت کی تعلیم و تربیت کی توفیق ملی۔اپنی اس غیر معمولی دلچسپی اور جوش کے متعلق آپ فرماتے ہیں :- عورتوں کی تعلیم سے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی خاص دلچسپی ہے۔میں نے اس کی وجہ سے لوگوں کے اعتراضات بھی سنے ہیں اور اختلافی آراء بھی سنی ہیں لیکن پھر بھی میں پورے یقین کے ساتھ اس رائے پر قائم ہوں کہ عورتوں کی تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔جب جماعت احمدیہ کا انتظام میرے ہاتھ میں آیا اس وقت قادیان میں عورتوں کا صرف پرائمری سکول تھا لیکن میں نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو قرآن کریم اور عربی کی تعلیم دی اور انہیں تحریک کی کہ مقامی عورتوں کو قرآن کریم کا ترجمہ اور حدیث وغیرہ پڑھائیں۔میں نے اپنی ایک بیوی کو خصوصیت کے ساتھ اس کے لئے تیار کیا اور میرا خیال تھا کہ وہ اپنی تعلیمی ترقی کے ساتھ دوسری عورتوں کوفائدہ پہنچا ئیں گی لیکن خدا تعالی کی مشیت تھی کہ میرے سفر ولایت سے واپسی پر وہ فوت ہوگئیں۔“ 66 ( مصباح ۱۵ اکتوبر ۱۹۳۱ء صفحه ۴۳) جلسہ سالانہ ۱۹۲۹ء کی تقریر میں حضور عورتوں کو قرآن مجید کے خزائن سے متمتع ہونے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں :-