سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 149
145 میں بعض تفسیریں جو پادریوں نے لکھی ہیں وہ بھی بہت کچھ مدد دیں گی۔میرے نزدیک جس جس رنگ میں کہ اسلام کی تعلیم کو یکجائی طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور اس کا سامان مل سکتا ہے یہ سامان یہودی اور عیسائی مذہب میں نہیں ملتا۔ان کے سمجھنے کے لئے ایک بہت بڑے لمبے عرصے کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔آپ کو شاید تعجب ہوگا کہ خود عیسائی پادری جو بڑے بڑے عرصہ تک اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے رہے ہیں میں نے ان کے منہ سے سنا ہے کہ ہم نے ابھی اپنے مذہب کی پوری واقفیت حاصل نہیں کی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیت نے کسی مقررہ بنیاد پر ترقی نہیں کی بلکہ ایک غلط خیال عیسائیت کے دل میں پیدا ہوا ہے جس نے اس مذہب کو تین متفرق شاخوں میں تبدیل کر دیا ہے کہ اس کی شکل کا پہچاننا بالکل ناممکن ہو گیا ہے۔اور وہ غلط خیال یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بہترین خوبی اس مذہب کی جو ہے وہ اس کی اڈاپٹیبلٹی (ADAPTABILITY) ہے وہ میسحیت کی سب سے بڑی خوبی یہی سمجھتے ہیں۔اس خیال نے ان کو فائدہ بھی پہنچایا ہے کیونکہ دہریہ وغیرہ بھی اپنے آپ کو عیسائیت کی طرف ہی منسوب کرتے ہیں لیکن اس نے ان کو نقصان بھی پہنچایا ہے یعنی ان کی کوئی معتین شکل باقی ہی نہیں رہتی۔ہر شخص یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ عیسائی ہے اس بات کو جائز سمجھتا ہے کہ روح اللہ نے اس کو یہ بات بتائی ہے اور بس وہی مذہب ہے۔حتی کہ وہ اس بات کے لکھنے سے بھی پر ہیز نہیں کرتے کہ ہمارے بانیان مذاہب یعنی حواریان مسیح علیہ السلام اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے نہیں سمجھے اور انجیل میں انہوں نے غلط طور پر لکھ دیا ہے کہ کم سے کم وہ ان کے ایک ایسی غیر معمولی تمیز اور تشریح کو نا جائز نہیں سمجھتے جو کسی بھی مقررہ اصل کے ماتحت نہ ہو اور جس کی سند اور جس کی مثال نہ انا جیل میں ملتی ہے نہ بائیل میں ملتی ہو نہ محاورہ میں ملتی ہو نہ اس زمانہ کے لٹریچر میں ملتی ہو۔پس ان حالات میں عیسائیت کا سمجھنا بہت بڑا کام ہے اور محنت چاہتا ہے لیکن اگر آپ اس طریق پر محنت کریں گے جو میں نے بتایا ہے تو آپ إِنْشَاءَ اللہ اس کام میں کامیاب ہو جائیں گے۔سوال آپ کا اس قدر مختصر تھا کہ جس رنگ میں میں سمجھا ہوں اس کا