سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 124 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 124

124 ایک دفعہ کسی وجہ سے شیخ غلام محمد صاحب مرحوم ( جو اپنی مخصوص دماغی حالت کی وجہ سے بڑے بڑے دعاوی کرتے تھے اور اسی وجہ سے حضور کے بھی شدید مخالف تھے ) کے ساتھیوں نے احمد یہ بلڈنکس میں ہنگامہ کر کے مولوی صدرالدین صاحب (جو بعد میں امیر انجمن احمد یہ اشاعت اسلام منتخب ہوئے ) کو ضربات پہنچا ئیں۔قادیان سے حضرت اقدس کا ارشاد مگر می شیخ بشیر احمد صاحب جواس وقت جماعت احمد یہ لاہور کے امیر تھے ) کو ملا کہ مولوی صاحب موصوف کے پاس جا کر ان سے اظہار ہمدردی کیا جائے اور اگر ان کی کوئی خدمت اس ضمن میں ممکن ہو تو اس سے گریز نہ کیا جائے بلکہ ان سے دریافت کیا جائے کہ ہماری جماعت اس معاملہ میں ان کی کیا خدمت کر سکتی ہے اور اگر وہ کوئی خدمت لینا چاہیں تو پوری تندہی سے وہ خدمت بجالائی جائے اس کی اہلیہ کی حضور نے کئی بار مالی معاونت فرمائی“ ( ریکار ڈ فضل عمر فاؤنڈیشن ) دشمنوں سے ہمدردی کی تلقین غیروں اور دشمنوں سے مدارات اور بُردباری ہی نہیں خیر خواہی ، ہمدردی اور دعا کی تلقین کرتے ہوئے آ۔فرماتے ہیں :- غیروں کے لئے بھی دعائیں کرو۔ان کے متعلق اپنے دلوں میں غصہ نہیں بلکہ رحم پیدا کرو۔خدا تعالیٰ کو بھی اس شخص پر رحم آتا ہے جو اپنے دشمن پر رحم کرتا ہے۔پس تم اپنے دلوں میں ہر ایک کے متعلق خیر خواہی اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرو۔کسی کے لئے بد دعا نہ کروں کسی کے متعلق دل میں غصہ نہ رکھو۔بلکہ دعائیں کرو اور کوشش کرو کہ اسلام کی شان وشوکت بڑھے اور ساری دنیا میں الفضل ۴۔جنوری ۱۹۴۰ ، صفحه ۵) احمدیت پھیل جائے دشمنوں سے خیر خواہی و ہمدردی کے عملی اظہار کا مندرجہ ذیل واقعہ اپنی مثال آپ ہے کہ دشمن کی دُکھتی رگ پر انگلی رکھنے کی بجائے آپ تو ازن و اعتدال اور صحیح اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- لاہور کے ایک ہندو جو ہندوؤں کے مشہور لیڈر ہیں ان کی لڑکی کے متعلق کئی سال ہوئے اخبارات میں بڑا شور اُٹھا کہ اس کی خط و کتابت کسی شخص