سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 121
121 احمدیت دو مختلف ، بنیادی نظریات ہیں۔آپ بسا اوقات جوش خطابت اور زور تحریر میں حضور کی ذات گرامی پر بھی بڑے رکیک حملے کر جاتے تھے۔عمر کے آخری حصے میں مولانا ظفر علی خان بہت بیمار ہو گئے ، فالج کا شدید حملہ تھا۔۱۹۵۶ء میں حضرت اقدس بھی مری گئے ہوئے تھے اور مولانا بھی وہیں قیام رکھتے تھے، حضور کو جب علم ہوا تو آپ نے صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور خاکسار کو بھیجا کہ ان کی صحت کا پوچھ کر آئیں۔ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد اور ڈاکٹر حشمت اللہ نے ڈاکٹری رپورٹ پیش کی۔حضور نے فوری طور پر کچھ رقم علاج کے لئے بھجوائی اور کچھ دوائیاں وغیرہ ارسال کیں اور تاکید کی کہ جب تک وہ مری میں ہیں باقاعدہ ان کی صحت کے بارے میں اطلاع دی جائے۔حضور جب تک مری میں رہے ہر روز ان کا حال دریافت کرتے رہے اور علاج کے سلسلے میں ان کی مالی اعانت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔“ ( ملت کا فدائی صفحہ ۴۰٬۳۰) احرار کے ذکر میں حسن سلوک کی ایک اور دلچسپ مثال قادیان کے زمانہ میں دیکھنے میں آتی ہے۔قادیان میں احرار بہت ہی کم تعداد میں تھے مگر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل اور قادیان کی پُرامن احمدی فضا کو خراب کرنے کی ناکام کوششوں میں لگے رہتے تھے۔ایسی ہی ایک کوشش یہ بھی کی گئی کہ قادیان کے قدیمی قبرستان جو حضور کا خاندانی قبرستان تھا پر ناجائز قبضہ کر لیا جائے۔قادیان میں فساد اور خونریزی کی کوشش میں ناکامی کے بعد عدالت کی طرف بھی رجوع کیا گیا مگر ان کو ہر جگہ بُری طرح ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔اس موقع پر حضور نے فرمایا :- وو با وجود تمام مخالفتوں کے اگر آج بھی احرار کے لئے جگہ ختم ہو جائے تو کم سے کم میں اپنی زندگی تک کہہ سکتا ہوں کہ ان کو قبرستان کے لئے کوئی زمین خریدنے کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ ان کے بھائیوں اور ہم مذہبوں سے پہلے ان کی تکلیف میں میں ان کی امداد کرنے کے لئے تیار ہوں گا الفضل ۲۵۔جون ۱۹۳۶ء صفحہ ۶) اسی فراخدلانہ پیش کش کو مزید نکھارتے ہوئے اور خلق محمدی کی شاندار مثال قائم کرتے