سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 119
119 احمدی جماعت کو کچل کر رکھ دیں میں نے اس پر مسکرا کر کہا اگر جماعت احمدیہ کسی انسان کے ہاتھ سے کچلی جا سکتی ہے تو کبھی کی کچلی جاچکی ہوتی اور اب بھی اگر اسے کوئی انسان کچل سکتا ہے تو یقیناً وہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔یہ پہلی کوشش تھی پھر احرار نے جماعت احمد یہ کو کچلنے کی مزید کوشش شروع کی۔انہوں نے جب۔۔۔۔۔۔۔۔جماعت احمدیہ کے خلاف کوشش شروع کی تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑے خزانہ کا دروازہ کھول دیا گیا ہے" ( الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء) حضور کے اس پر حکمت جواب میں تو کل ویقین کی روشنی جماعت کی صداقت کی ایک یقینی اور واضح دلیل ہے حضور کے کردار کا یہ عجیب روشن پہلو ہے کہ حضور نے اسلامی مفاد کے پیش نظر ایسے لوگوں سے بھی حُسنِ سلوک فرمایا اور اتحاد و اتفاق کی برکات سے بہرہ اندوز ہونے کے لئے ان لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش فرمائی چنانچہ ہماری تاریخ کا یہ ورق کتنا دلکش ہے کہ ہمارے جلیل القدر امام مسلم مفاد کی حفاظت کے لئے مسلم اکابرین کے اصرار پر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صدر بننے پر رضامند ہوئے تو اس حیثیت سے حضور نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ تمام مسلمانوں کو اس قومی کام کے لئے متحد کریں اور حضور نے سب سے پہلے احرار سے اس سلسلہ میں رابطہ فرمایا اور اَلْحُبُّ لِلَّهِ وَالبُغْضُ لِلَّهِ “ کا انتہائی مخالف و نا مساعد حالات میں عملی مظاہرہ فرمایا۔ایک ایسے موقع پر جب احمدیت کے ایک شدید معاند و مخالف مولوی ظفر علی خاں ( جو اس زمانہ میں احرار میں شامل اور احراری مقاصد کی تکمیل کے لئے وقف تھے ) مسلم لیگ کی طرف سے ایک ایسے انتخاب میں امیدوار تھے جہاں ان کی شکست سے اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ مضبوط ہوتے تھے تو حضرت فضل عمر کی ہدایت کے مطابق جماعت احمدیہ کے فیصلہ کن ووٹ مولوی ظفر علی صاحب کی حمایت میں ڈالے گئے۔اس بظاہر نا قابل یقین اور عجیب واقعہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں : - وو احرار کو اگر ہم نے ووٹ دیئے ہیں تو سیاسی معاملہ میں دیئے ہیں نہ کہ کسی دینی معاملہ میں۔اس سے پہلے مولوی ظفر علی خان صاحب کو جو کہ سنٹرل اسمبلی کے ممبر ہوئے ہیں ہماری جماعت نے ووٹ دیئے تھے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیوی معاملہ میں اگر ایک احراری مسلمان قوم کے لئے زیادہ مفید ہو سکتا ہے تو ہم