سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 118 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 118

118 مذہبی اجارہ داری کا قیام یا سیاسی تفوق و مرتبہ حاصل کرنا تھا۔ایسے دشمن ہر طریق پر مخالفت جاری رکھنا اپنی زندگی کا مقصد و مدعا قرار دیے ہوئے تھے۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ باوجود ان لوگوں سے ہر طرح کی تکالیف اور مصائب پانے کے آپ ان کے لئے بھی ہمیشہ دعا گو ہی رہے نکالا مجھے جس نے میرے چمن سے میں اس کا بھی دل سے بھلا چاہتا ہوں اور ان کے معاملہ کو حوالہ بخدا ہی رکھا دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ ودل برمانے دو یہ درد رہے گا بن کے دوا تم صبر کر و وقت آنے دو آسمانی میں عدو میرا زمینی، اس لئے میں فلک پر اُڑ رہا ہوں اس کو ہے بل کی تلاش احرار سے حسن سلوک جماعت کی احرار کی طرف سے مخالفت کوئی پوشیدہ راز نہیں ہے کہ احرار کو ہندو کانگرس اور حکومت کے بعض افسروں کی سر پرستی حاصل تھی۔گویا یہ مخالفت کوئی مذہبی مخالفت نہ تھی بلکہ مسلم مفاد کو نقصان پہنچانے کے لئے ہند و سازش تھی اور یہ لوگ اس سازش میں کٹھ پتلی یا بقول قائد اعظم سید ھائے ہوئے پرندے تھے۔اس منظم مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- بعض مسلمان کہلانے والوں نے محسوس کیا کہ جماعت اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ اگر اس سے آگے بڑھ گئی تو اس کا مٹانا اور اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا اس لئے انہوں نے تنظیم کر کے اور ایسے لوگوں کی مدد لے کر جو بظاہر ہمارے دوست بنے ہوئے تھے مگر اندرونی طور پر دشمن تھے ہمارے خلاف اڈا قائم کر لیا اور ایسی تنظیم کی جس کی غرض احمدیت کو کچل دینا ہے۔۱۹۳۲ء میں تحریک کشمیر کے دوران ایک دن سر سکندر حیات خان صاحب نے مجھے کہلا بھیجا کہ اگر کشمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو حکومت کسی نہ کسی رنگ میں فیصلہ کر دے گی۔میٹنگ سر سکندرحیات خان صاحب کی کوٹھی پر ہوئی اور میں اس میں شریک ہوا۔چوہدری افضل حق صاحب ( مشہور احراری لیڈر ) بھی وہیں تھے باتوں باتوں میں وہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ