سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 99
99 عبدالحفیظ صاحب نے ان کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے دعا کی درخواست کی۔اور حضور نے تسلی دلائی۔اس کی اطلاع انہوں نے اپنے بھائی کو بھیج دی۔اب ان کی طرف سے خط آیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں :۔I have been safe from the trouble by the grace of Allah and the dua of Huzoor (his Holiness)۔I accepted the Ahmadiyya of the very moment when I was safe from the trouble۔یعنی میں خدا کے فضل اور حضرت صاحب کی دعا سے بچ گیا ہوں اور میں نے اس وقت احمدیت قبول کر لی جس وقت مجھے اس مصیبت سے نجات حاصل ہوئی۔خدا تعالیٰ ہمارے اس بھائی کو استقامت عطا فرمائے اور احمدیت کی برکات سے بہرہ اندوز ہونے کی توفیق بخشے۔آمین (الفضل، استمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۷ ) مکرم علی احمد صاحب ریلوے ملازم حضور کی قبولیت دعا کا ایک نشان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- ” میری تعلیم صرف انگریزی مڈل تک ہے، ملٹری میں تقریباً دو سال ڈریسر رہا، جب ۱۹۱۹ء میں افغانستان کی لڑائی ختم ہوئی تو مجھے ڈسچارج کر دیا گیا۔پھر میں نوکری کے لئے مارا مارا پھرتا رہا اور حضور کو دعا کے لئے لکھنا شروع کر دیا اور ریلوے پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہو گیا اور قریباً پا ۲ سال ملازمت کرنے کے بعد سارجنٹ سوم ہو گیا۔۱۹۲۹ء میں میں کراچی سی آئی ڈی میں کام کر رہا تھا کہ میں نے اخبار میں پڑھا کہ واچ اینڈ وارڈ برانچ ریلوے میں کھلنے والی ہے اور سب انسپکٹر وغیرہ اس میں رکھے جائیں گے۔میں نے درخواست دے دی اور حضور کو دعا کے لئے لکھا، مجھے سلیکشن کے لئے بلایا گیا ، میرے مقابل پر سلیکشن بورڈ کے روبرو بی۔اے اور کئی ایک وکیل تھے اور کئی ایک ریلوے کا تجربہ رکھنے والے اور ملٹری ریلوے کے کلرک اور انسپکٹر کمرشل برانچ کے تھے۔میں نے حضور کو متواتر خط دعا کے لئے لکھنے شروع کئے۔جب سب پیش ہو گئے تو میری باری آئی مجھے انہوں نے صرف انگریزی