سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 98 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 98

98 ایک دفعہ میں کشتی میں بیٹھا دریا کی سیر کر رہا تھا اور بھائی عبدالرحیم صاحب میرے ساتھ تھے۔میرے لڑکے ناصر احمد نے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ ابا جان اگر اس وقت ہمارے پاس کوئی مچھلی بھی ہوتی تو بڑا مزہ آتا۔اس وقت یکدم میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا لوگ تو خواجہ خضر سے کچھ اور مراد لیتے ہیں مگر میں یہ سمجھا کرتا ہوں کہ خضر ایک فرشتہ ہے جس کے قبضہ میں اللہ تعالیٰ نے دریا رکھے ہوئے ہیں۔جب ناصر احمد نے یہ بات کہی تو میں نے کہا خواجہ خضر ہم آپ کے علاقہ میں سے گزر رہے ہیں ہماری دعوت کیجئے اور ہمیں کھانے کے لئے کوئی مچھلی دیجئے۔جو نہی میں نے یہ فقرہ کہا بھائی جی کہنے لگے آپ نے یہ کیا کہدیا کہ خواجہ خضر ہماری دعوت کریں۔اس سے تو بچے کی عقل ماری جائے گی مگرا بھی بھائی جی کا یہ فقرہ ختم ہی ہوا تھا کہ یکدم ایک بڑی سی مچھلی کو ذکر ہماری کشتی میں آگری۔میں نے کہا لیجئے بھائی جی دعوت کا سامان آ گیا۔وہ حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہو گیا کہ ادھر میری زبان سے یہ نکلا کہ خواجہ خضر ہم آپ کے علاقہ سے گزر رہے ہیں ہماری دعوت کیجئے اور ادھر انہوں نے یہ کہا کہ آپ کیا کہتے ہیں خواجہ خضر بھی کہیں دعوت کیا کرتے ہیں کہ یکدم ایک بڑی سی مچھلی ہماری کشتی میں آپڑی اور میں نے کہا بھائی جی لیجئے۔مچھلی آگئی۔چنانچہ اس کے بعد ہم نے وہ مچھلی پکا کر تبرک کے طور پر سب ہمراہیوں کو تھوڑی تھوڑی چکھائی کہ یہ ہمارے خدا کی طرف سے مہمان نوازی ہوئی ہے“۔(الفضل ۲۲ مئی ۱۹۶۰ء صفحه ۵۴) روز نامہ الفضل ۱۰۔ستمبر ۱۹۳۱ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی قبولیت دعا کا تازہ نشان کے عنوان سے مندرجہ ذیل ایمان افروز واقعہ درج ہے:- وو چند دن ہوئے بنگال کے ایک نوجوان عبد الحفیظ صاحب دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے قادیان میں آئے وہ اپنے خاندان میں اکیلے ہی احمدی تھے اور ان کے دوسرے بھائی ان کے سخت مخالف تھے۔یہاں آنے کے بعد ان کے بڑے بھائی خوند کر عبدالرب صاحب۔۔۔۔۔نے خط لکھا کہ میں ایک مصیبت میں مبتلا ہوں۔تم اپنے حضرت صاحب سے دعا کراؤ کہ میں اس مصیبت سے نجات پا جاؤں۔اگر مجھے نجات حاصل ہو گئی تو میں جماعت احمدیہ میں داخل ہو جاؤں گا۔