سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 91
91 (۵) چونکہ میرے بھائی خان بہادر سیٹھ احمد الہ دین صاحب کو حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی دعاؤں کی قبولیت کا علم ہو گیا تھا اس لئے وہ بھی وقتاً فوقتاً حضور سے دعائیں کرواتے رہتے تھے۔اس بار انہوں نے دو معاملات کے متعلق دعا کرائی۔دونوں امور میں انہیں عظیم الشان کامیابی حاصل ہوئی اور دو لاکھ روپیہ منافع حاصل ہوا۔جس کی خوشی میں انہوں نے حضور کی خدمت میں بیس ہزار روپیہ کا چیک روانہ کیا۔اہم من (1) ہماری تجارتی فرم میں ہم چار بھائی مختلف کاموں کے نگران تھے اور مجھے چونکہ حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کی دعاؤں کا خوب تجربہ تھا اس لئے میرے ذمہ جو کام تھا اس کی ترقی کے لئے حضور سے دعائیں کراتا رہتا تھا اور حضور کی خدمت میں ماہوار ایک سو (۱۰۰) روپیہ نذرانہ روانہ کرتا تھا جس کے طفیل ہماری فرم کو سالانہ اوسطاً دس ہزار روپیہ منافع ہوا کرتا۔میرے بھائی قاسم علی اہلحدیث ہو گئے اور میری مخالفت شروع کر دی۔مولوی ثناء اللہ صاحب کو امرتسر سے بلا کر خوب مخالفت کرائی جس میں میرے بھائی غلام حسین بھی شریک ہو گئے اور یہ دونوں بھائی اس کام میں بھی دخل دینے لگے جو میں کرتا تھا۔میں ماہوار جو رقم قادیان روانہ کرتا تھا اس کے متعلق اعتراض کرنے لگے۔اس پر میں نے روپیہ بھیجنا بند کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری فرم کو جو سالانہ دس ہزار روپیہ منافع ہوتا تھا وہ جاتا رہا بلکہ نقصان ہونے لگا آخر وہ وقت آیا کہ ہماری فرم نے یہ تجارت ترک کر دی اور میں نے اسے اپنے ذمہ لے لیا۔میں نے حضور سے پہلے کی طرح دعا کرانی شروع کی اور پہلے ماہوار جو ایک سو روپیہ روانہ کیا کرتا تھا اس کی بجائے دوسوروپیہ روانہ کرنے لگا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم کو سالانہ اوسطاً ۱۵ ہزار روپیہ منافع ہونے لگا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ (۷) اس تجارتی معاملہ میں میں نے ایک بار دو ٹھیکے لئے۔سولہ سوٹن مال نوے روپے فی ٹن کے حساب سے دینے کا سودا کیا۔یہ نرخ چونکہ بہت اچھا تھا اس لئے اتنا بڑا ٹھیکہ کر لیا گیا مگر چند روز میں ہی نرخ ایک سو بیس روپیٹن ہو گیا اور سولہ سوٹن مال دینے میں فی ٹن تمہیں روپیہ کے حساب سے ۴۸۰۰۰ روپیہ کا