سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 90
90 ایک ماموں سیٹھ الہ دین ابراھیم صاحب احمدی بھی شریک تھے۔ہم نے یہ بلڈنگ صرف اس لئے خریدی کہ فروخت کر کے کچھ نفع حاصل کرینگے اور امید تھی کہ پندرہ میں ہزار روپیہ منافع آ جائے گا۔میں نے یہ شرط پیش کی کہ ہم اس کے متعلق حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرا ئیں اور ہمیں جو منافع اس کا پانچواں حصہ ہم تبلیغ کے لئے قادیان روانہ کریں۔میرے بھائی خان بہادر سیٹھ احمد بھائی اور ہمارے ماموں صاحب نے تو یہ شرط مان لی مگر ہمارے بمبئی والے رشتہ دار نے نہ مانی۔تاہم میں نے یہ حقیقت حضرت (خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کی خدمت میں لکھ بھیجی۔اس کے بعد غیر معمولی طور پر اس جائداد کی قیمت تیز ہونے لگی۔مجھے چونکہ حج کے لئے جانا تھا اس لئے میں نے اپنے بمبئی والے رشتہ دار کولکھا کہ قیمت خوب تیز ہوگئی ہے اب اسے فروخت کر دیں مگر ان کا خیال تھا کہ قیمت اور تیز ہوگی اس لئے یا تو ہم اور انتظار کریں۔یا جس قیمت پر یہ جائدا داب بکتی ہے اسی قیمت پر ان کے ہاتھ فروخت کر دیں۔ہم نے منظور کیا اور ہمیں اس میں ۸۰ ہزار روپیہ منافع ہوا۔جس کا پانچواں حصہ سولہ ہزار روپیہ بنے قادیان روانہ کر دیا۔اس کے بعد میں حج کے لئے روانہ ہو گیا۔وہاں سے واپس آنے کے بعد میں نے بمبئی والے رشتہ دار سے جائداد کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ قیمت تو صرف ہمارے لئے تیز ہوئی تھی ہمارے فروخت کر دینے کے بعد قیمت کم ہوتی گئی۔حتی کے اصل قیمت بھی وصول نہ ہو سکی۔ہمارے رشتہ دار نے اقرار کیا کہ واقعی آپ دعا کرا کے کامیاب ہو گئے اور میں بہت نقصان میں رہا۔اس واقعہ کو اٹھارہ سال کا عرصہ ہو گیا ہے اب تک وہ جائداد بغیر فروخت ہوئے پڑی ہے۔دیکھئے یہ خدا تعالیٰ کا کیسا کھلا معجزہ ہے۔ایک ہی معاملہ میں تین حصہ دار ہیں۔دو حصہ دار خدا کے خلیفہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس سے دعا کرواتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو ۸۰ ہزار روپیہ منافع عطا فرماتا ہے مگر اس معاملہ میں تیسرا حصہ دار نہ خدا کے خلیفہ کو مانتا ہے نہ اس سے دعا کرانے کی پرواہ کرتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نہ صرف اس کو منافع سے محروم رکھتا ہے بلکہ دو مومن حصہ داروں کو اسی ہزار روپیہ منافع اس کی جیب سے دلاتا ہے۔