سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 87 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 87

87 دوسرے مہینہ میں تو طبیعت مناسب حد تک تندرست ہوگئی اور اب جبکہ اپریل کے بعد ۵ ماہ گزرے ہیں۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بالکل تندرست ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ علاج تو ایک بہانہ ہے۔مرض میں تخفیف اسی وقت سے شروع ہو گئی تھی جب میں نے حضرت (خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی خدمت میں تار بھیجا۔جس مریض کو ڈاکٹر اپنڈیسائٹس اور پتہ میں پتھری بتلا چکے ہوں اور جس کا علاج سوائے آپریشن کے اور کچھ نہ بتلایا جا تا ہو۔اس کا اس طرح صحت یاب ہو جانا میرے آقا ومولا کی دعا کا معجزانہ اثر ہے۔خاکسار حبیب الرحمن بی۔اے۔اے۔ڈی۔آئی آف سکولز کبیر والا الفضل ۲۸ - دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۵۲) حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب ہماری جماعت کے ایک مشہور و معروف بزرگ ہیں۔ان میں دعوت الی اللہ کا غیر معمولی جذبہ پایا جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں انہیں بہت مفید خدمات بجالانے کی توفیق مرحمت فرمائی۔حضرت سیٹھ صاحب نے اپنے ایک مضمون میں حضرت فضل عمر کے قبولیت دعا کے مندرجہ ذیل واقعات تحریر فرمائے ہیں :- خاکسار کو سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے قریباً چھپیں سال کا عرصہ ہوا ہے اس دوران میں نے کئی بار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے اشد ضروری امور کے لئے دعائیں کرائیں اور ان سب نے معجزانہ طور پر قبولیت کا شرف حاصل کیا۔(۱) ۱۹۱۸ ء میں میں نے اپنے لڑ کے علی محمد صاحب اور سیٹھ الہ دین ابراہیم بھائی نے اپنے لڑکے فاضل بھائی کو قادیان تعلیم کے لئے روانہ کیا۔علی محمد صاحب نے ۱۹۲۰ء میں میٹرک پاس کر لیا۔ان کو لنڈن جانا تھا۔دونوں لڑکے گھر واپس آنے کی تیاری کر رہے تھے کہ یکا یک فاضل بھائی کو ٹائیفائیڈ بخار ہو گیا۔نور ہسپتال کے انچارج جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب نے جو کچھ ان سے ہو سکا کیا۔طبیعت درست بھی ہوگئی مگر اس کے بعد بد پرہیزی کے سبب پھر ایسی بگڑی کے زندگی کی کوئی امید نہ رہی۔جب یہ اطلاع حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی ) کو پہنچی تو حضور فاضل بھائی کو