سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 77 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 77

77 بگڑے گی۔‘ (خطبہ جمعہ ۱۶۔دسمبر ۱۹۴۹ء مطبوعه الفضل ۲۲۔فروری۱۹۵۰ء) اور ابھی ہمیں یہ تکلیفیں کیا آئی ہیں۔بہت سے ابتلاء ہیں جو آنے والے ہیں شیطان تو ایک بڑی فتنہ پرداز ہستی ہے ایک چھوٹے بچے سے بھی اگر کوئی ایسی چیز لینی ہو جسے وہ نہ دینا چاہتا ہو تو وہ بھی اپنا حق چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ایک چور سے اپنا مال واپس لینے کے لئے لڑنا پڑتا ہے۔پس جب ہم شیطان سے وہ بادشاہت لینی چاہتے ہیں جو ہم سے چھین کر وہ لے گیا ہے تو اس کا واپس لینا بھی کوئی آسان کام نہیں بلکہ شیطان اس کے لئے لڑے گا اور دم تو ڑ کر لڑے گا اور پورا زور لگائے گا کہ یہ چیز اس کے قبضہ سے نہ نکلے۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو مشکلات کے مقابلہ کے لئے تیار رہنا چاہئے اور گھبرانا نہیں چاہئے۔مشکلات چیز ہی کیا ہیں یہ تو مومن کے ایمان کو بڑھاتی اور اسے تقویت پہنچاتی ہیں۔نہ کہ ہمت کو پست کرتی اور کمزور بناتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ ہر مصیبت پر بجائے گھبرانے کے یہ یقین اور ایمان رکھیں کہ اب خدا کی نصرت بھی قریب آ رہی ہے۔اگر ہم مومن ہیں اور واقعی مومن ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا کی طرف سے ہیں اور واقعی خدا کی طرف سے ہیں تو ہمیں اس بات پر بھی یقین رکھنا چاہیئے کہ ہر مصیبت جو ہم پر آئے ہماری ترقی کا موجب ہے تنزل کا موجب نہیں۔۔۔۔الفضل ۱۱۔جون ۱۹۳۱ ء صفحہ ۸۷ ) میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ میں بیت الدعا میں بیٹھا دعا کر رہا ہوں کہ یکدم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ اس امت میں کئی ابراہیم ہوئے ہیں چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بتایا گیا کہ آپ بھی ابراھیم ہیں حضرت خلیفہ اول کے متعلق بتایا گیا کہ آپ بھی ابراھیم ہیں اور مجھے اپنے متعلق بتایا گیا کہ ایک ابراھیم میں بھی ہوں۔مکہ کی بنیاد ابراھیم اول کے ہاتھ سے رکھی گئی تھی اور مدینہ کی بنیاد ابراھیم اعلیٰ کے ہاتھ سے رکھی گئی اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے موجودہ زمانہ میں بچنا اور قادیان کی تکمیل کا کام آپ کے سپرد کیا چنانچہ وہ