سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 70 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 70

70 گھبرانے کی ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ اپنے اس محمود کو دشمنوں کے منصوبوں سے قبل از وقت اطلاع کر دیتا ہے۔“ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس خوشخبری کے ملتے ہی میری تمام گھبراہٹیں اور پریشانیاں یکسر دور ہو گئیں اور قادیان کی گلیوں اور محلوں میں بے خوف و خطر پھرتے رہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا ہی فضل واحسان ہے کہ اس نے قادیان دار الامان کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھا اور قادیان کے مردوں ، عورتوں اور بچوں کو اپنی حفاظت میں لاہور پہنچا دیا۔ایسا ہی ایک دوسرا واقعہ بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں :- میں ۱۹۳۵ء کی مجلس مشاورت پر انجمن احمد یہ شاہ مسکین کی طرف سے بطور نمائندہ منتخب ہوا۔اس وقت میری عمر تقریباً ۲۳-۲۴ سال ہوگی۔لہذا بغرضِ شمولیت مجلس شوری قادیان پہنچ گیا۔مجھے سٹیج کے قریب ہی بیٹھنے کا موقع مل گیا۔اس شوری میں حسب الارشاد حضرت مصلح موعود شیخ کے اوپر ایک تختہ بورڈ لگوایا گیا۔ہم الارشاد حیران تھے کہ مجلس مشاورت اور پھر تختہ بورڈ کا لگوایا جانا۔جس کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔اپنی تقریر کے دوران میرے آقا حضرت مصلح موعودؓ نے قرآن کریم سے سورۃ نجم کی ابتدائی آیات کی تلاوت فرمائی۔اور پھر ان آیات کریمہ سے اپنے پیارے آقا حضرت اقدس رسول کریم صلی المهدی الو سلم کی ارفع و اعلیٰ شان کے بارے میں نہایت عارفانہ تقریر فرمائی۔اور اپنے آقاصلی للمدیر الدیلم کی بلند شان کا ذکر کرتے ہوئے تختہ بورڈ پر نقشہ بنا کر دکھایا۔اس تقریر کے دوران میں نے اپنی ان مادی آنکھوں سے دیکھا کہ میرے آقا حضرت لمصلح الموعود کے جسم مبارک سے نور کی شعائیں پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہیں۔حتی کہ آپ کا وجود مبارک اس نور میں ہی چھپ گیا۔اور مجسم نور بن گیا۔اب تک یہ نورانی نظارہ میری آنکھوں کے سامنے نظر آتا دکھائی دیتا ہے اور خدا تعالیٰ نے جو یہ فرمایا تھا کہ : - بالکل درست نکلا ہے۔نور آتا ہے نور ( غیر مطبوعہ ریکار ڈ فضل عمر فاؤنڈیشن ) مکرم میاں محمد مراد صاحب پنڈی بھٹیاں لکھتے ہیں :- جس دن حضرت خلیفہ المسیح الثانی خلیفہ بنے۔اس دن مجھے یہ کشف دکھایا