سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 67 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 67

67 دیکھا اور سنا۔اس کی چند مثالیں عرض کرتی ہوں۔پارٹیشن سے پہلے کے تمام حالات سب جانتے ہیں کہ وہ کیسا خطرناک دور تھا اور کن حالات سے ہمیں دو چار ہونا پڑا؟ حضرت مصلح موعود۔ہاں وہ جانثار اسلام جو دنیا کے کونے کونے میں نہ صرف ضعف دین مصطفے صلی اللمار المسلم) دیکھ نہ سکتا تھا بلکہ ہر جگہ اس کا جھنڈا نصب کرنے کی فکر میں کوشاں رہتا تھا ، جس کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا ،سونا جاگنا صرف اور صرف خدمت دین محمد کے لئے ہی وقف تھا، ہاں وہ غمگسار دین محمد ! ان دنوں شدید پریشانی کے عالم میں تھا۔اسے دنیا کے مال و متاع کا غم نہ تھا ، سے بیوی بچوں کی پریشانی نہ تھی اسے غم تھا تو یہی کہ یہ بٹوارا ، کہیں اعلائے کلمتہ الحق میں روک نہ بن جائے تبلیغی راہیں مسدود نہ ہو جائیں ، گو کہ آپ کو یہ خوب علم تھا کہ جس راستہ پر آپ گامزن ہیں وہ راستہ خالصتہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔لیکن آزمائشیں تو انبیاء پر بھی آتی رہتی ہیں۔آپ دن رات دعاؤں میں لگے رہتے۔بسا اوقات میں نے آپ کو گھنٹوں سجدہ ریز سسکیوں کی حالت میں دیکھا۔آپ کو ان حالات کے متعلق بشارات بھی ملتی رہیں لیکن پھر بھی کرب اور فکر کی کیفیت ضرور تھی۔صحت کے زمانہ میں آپ کا معمول تھا کہ تمام وقت دفتر میں تنہا اپنے کام میں مصروف رہتے۔رات کو یا پھر کھانے کے اوقات میں گھروں میں آتے۔پارٹیشن کے پریشانی کے دنوں کا واقعہ ہے کہ ایک دن عصر کے وقت آپ میرے پاس آئے۔آپ کی آنکھیں سرخ اور متورم تھیں ، آواز میں رقت تھی ،مگر اس پر پورا ضبط کئے ہوئے تھے۔مجھے فرمانے لگے :- صبح عید ہے میں شاید آپ لوگوں کو عیدی دینی بھول جاؤں ، کام کی مصروفیت غیر معمولی ہے، اور مجھے موجودہ حالات کے متعلق شدید گھبراہٹ ہے، گو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے میری دعا کو سنا ہے اور اس کا یہ وعدہ ہے کہ أَيْنَمَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللهُ جَمِيعاً، میں سجدہ کی حالت میں تھا جس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت ملی ہے اور مجھے اس پر پورا ایمان ہے لیکن پھر بھی دعا کی سخت ضرورت ہے۔تم بھی درد سے دعائیں کرو اللہ تعالی تبلیغ کے راستے ہمیشہ کھلے رکھے ، میں نے آپ کا یہ الہام و بشارت نوٹ کر لیا اور اس کے پورا ہونے کی منتظر رہنے لگی۔آج آپ سب دیکھ رہے ہیں کہ وہ دعا اور پھر اس کا جواب جس میں بشارت تھی کس خوبی اور کس خوبصورتی سے پورا