سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 620
557 انداز تقریر دلوں کو مسخر کئے بغیر نہ رہتا تھا۔مجھے بالخصوص ان کی ایسی تقریروں کا سماں یاد ہے جو احمد یہ ہوسٹل ڈیوس روڈ کے وسیع صحن میں شامیانے تلے ہوتی تھیں۔وجیہہ مقرر مسلمان شرفاء کے مقبول لباس میں سفید پگڑی ، لمبا کوٹ اور شلوار میں ملبوس جب لب کشائی کرتا تو ایک عجیب شانِ بے نیازی سے کھڑا ہو جاتا۔بایاں ہاتھ کمر کے پیچھے رکھ لیتا اور سوائے کبھی کبھی پگڑی کے شملے کو چھو لینے کے اس سے کوئی ایسی حرکت دیکھنے میں نہ آتی ، جو عام طور پر بولنے والوں سے اپنی بات پر زور دینے کے سرزد ہوتی رہی۔وہ آواز کے نمایاں اُتار چڑھاؤ کے بغیر روانی سے بولتا جاتا۔اہم مسائل پر یوں گفتگو کرتا جیسے وہ انہیں زندگی کے عام مسائل (Problems) سمجھتا ہو۔ایک مسئلے کو اٹھا کر دوسرے مسئلے میں پیوست نہ کرتا۔بلکہ ایک بات پر سیر حاصل تبصرہ کرنے کے بعد پھر دوسری بات کرتا نہ آنکھیں مٹکاتا ، نہ کو لکھے ہلاتا ، نہ ہاتھ اور بازؤں سے بے پناہ فلک شگاف اشارے کرتا بس یہ کیفیت ہوتی جیسے کوئی اسے پیغام دے رہا ہو، اور وہ یہی پیغام سامعین تک بے کم و کاست پہنچا رہا ہو۔وہ مخالفین پر رکیک حملے نہ کرتا، نہ شعر خوانی کرتا، نہ چھیڑ خانی کرتا، تین تین چار چار گھنٹے اس ربط اور ضبط سے بولتا، جیسے کوئی کتاب پڑھ کر سنا رہا ہو۔فقرے مکمل ، دلائل معقول ،احساس ذمہ داری حد کو پہنچا ہوا، تجاویز تعمیری، نکتہ چینی جائز۔ہر تقریر میں ایک پیغام ہوتا اور ہر پیغام پر عمل پیرا ہونے کے لئے واضح ہدایات سن کر مزا ہی آ جاتا۔بے اختیار دل میں یہ کیفیت پیدا ہوتی اَلحَمدُ لِلہ ایک معقول اور فاضل آدمی کی بات سننے کا موقع ملا۔مجھے اس کے مخالف مقررین کی مقررانہ حرکات سکنات کبھی بھی اتنی زیادہ مضحکہ خیز معلوم نہ ہوئیں جتنی کہ اس کی تقریر کو سننے کے فوراً بعد۔ایک دفعہ میں دتی دروازہ کے باہر ایک مسجد میں مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تقریر سننے گیا۔نماز تو ان کے پیچھے نہ پڑھی کیونکہ سنا تھا کہ وہ عامتہ المسلمین کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھتے مگر نماز کے بعد ان کی تقریر نہایت غور سے سنی عالمی مسائل سے لے کر ملکی مسائل تک ایسے انداز میں زیر بحث آئے کہ باید شاید۔اصل میں ان کی شخصیت ایسی جاذب تھی کہ آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔میں