سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 607
543 خالصہ پر چارک و دیاله تر نتارن حضور کی تقریر کو بے مثال قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :- ”حضرت مرزا صاحب ایسی روانی کے ساتھ پانچ سے نو گھنٹوں تک بولتے ہیں کہ ہندوستان یا اس سے باہر اس کی مثال نہیں مل سکتی دسمبر ۱۹۳۸ء میں میں نے مرزا صاحب کی تقریر سنی جو آپ نے کھڑے ہو کر پانچ گھنٹہ کی اور سامعین جن میں میں خود بھی شامل تھا بُت بنے سنتے رہے اور نہایت غور کے ساتھ آپ کے مسکراتے ہوئے چہرہ مبارک کو دیکھتے رہے“ ( الفضل ۲۸ جنوری ۱۹۳۹ء) بیروت کے مشہور اخبار الیوم نے جماعت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا : - ” مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب پاکستان میں ایک بہت بڑا دینی مرتبہ رکھتے ہیں۔آپ لاہور پنجاب کے رہنے والے ہیں ، آپ کی عمر اس وقت ساٹھ سال ہے آپ جماعت احمدیہ کے امیر ہیں۔یہ جماعت ساری دنیا میں اسلامی تعلیمات پھیلا رہی ہے آپ ہی کے طفیل دنیا کے اکثر شہروں میں تبلیغی مراکز قائم ہیں۔آپ نے کشمیر اور قیام پاکستان میں بہت بڑا پارٹ ادا کیا ہے۔آپ کی جماعت چھوٹے سے لے کر بڑے تک ایک خاص نظام میں منسلک ہے۔آپ متقی پرہیز گار اور مستجاب الدعوات ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بہت بڑے اسلامی لیڈر نے اسلام اور اپنے جماعتی اصولوں کے بارہ میں بہت سی کتابیں انگریزی اور اردو ہر دو زبانوں میں تالیف کی ہیں۔آپ کشمیر کمیٹی کے صدر بھی رہے ہیں۔آپ نے ۱۹۲۴ء میں لندن میں منعقدہ مذاہب عالم کا نفرنس میں ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندگی کی تھی، الیوم بیروت ۲۲ دسمبر ۱۹۴۹ء تاریخ احمدیت جلد ۴ صفحه ۱۰۹ ، ۱۱۰ مفہوماً) ایک مشہور پادری کے تاثرات۔امریکہ کے مشہور مستشرق زدیمر مرکز احمدیت دیکھنے کی غرض سے ۲۸۔مئی کو قادیان آئے آپ نے مرکزی ادارے دیکھنے کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ سے ملاقات کی اور سلسلہ کا لڑ پچر لینے کے بعد رخصت ہوئے اور امریکہ پہنچ کر ایک خط شائع کیا جس میں عیسائی دنیا