سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 606 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 606

542 66 لیمپ ( جو او پر آویزاں تھا) کی روشنی سے ہے۔حضرات جس فصاحت اور علمیت سے جناب مرزا صاحب نے اسلامی تاریخ کے ایک نہایت مشکل باب پر روشنی ڈالی ہے وہ انہیں کا حصہ ہے (الفضل ۸ مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۵) احمد یہ خدمات کو مثالی قرار دیتے ہوئے روزنامہ ”حقیقت“ لکھنو ( ۲۵ رمئی ) لکھتا ہے:- یہ واقعہ ہے کہ اس وقت ہندوستان کی تمام اسلامی جماعتوں میں سب سے زیادہ منظم اور سرگرم عمل احمدی جماعت ہے جس نے دنیا کے گوشہ گوشہ میں اپنے تبلیغی مشن قائم کر دیئے ہیں حالانکہ اس جماعت کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہیں ہے اور اس میں غرباء اور متوسط الحال لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے باوجود اس کے حال میں دفتر قادیان سے سلسلہ کی ضروریات کے لئے ۶۰ ہزار روپیہ قرض جمع کرنے کی اپیل کی گئی چنانچہ دو ماہ کے اندر ہی یہ رقم فراہم ہوگئی لیکن اگر کسی غیر احمدی جماعت کی طرف سے اتنی ہی رقم کے لئے اپیل کی جاتی تو وہ چھ ماہ میں کیا سال بھر میں بھی جمع نہ ہو سکتی تھی خواہ وہ ضرورت کتنی ہی شدید ہوتی۔۔۔کاش احمدی جماعت کے اس ایثار سے عام مسلمان سبق لیں اور قومی ضروریات کے لئے ایک بیت المال قائم کر کے اپنی بیداری اور زندگی کا ثبوت دیں (الفضل ۳ جون ۱۹۳۴ء صفحه ۲) اخبار سٹیٹسمین کے نامہ نگار خصوصی جماعت کی ترقی کا ذکر کرنے کے بعد حضرت وو امام جماعت احمدیہ کو نہایت ہی موزوں شخصیت قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :۔جلسہ سالانہ کے موقعے پر احمد یہ جماعت کی اقتصادی حالت کی بہتری کے لئے خاص زور دیا جاتا ہے۔اس جماعت نے گزشتہ سالوں میں اپنے قابل خلیفہ کی سرکردگی میں بے حد ترقی کی ہے آپ سے ملاقات کرنے کے بعد میرے دل میں اس امر کے متعلق کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہ رہی کہ آپ خلافت جیسے مشکل اور اہم کام کے لئے نہایت ہی موزوں شخصیت ہیں کیونکہ آپ کی طاقت کا انحصار آپ کی روحانی برتری اور آپ کے پیروؤں کی رضا کارانہ اطاعت پر مبنی ہے ( الفضل ۱۶ جنوری ۱۹۴۶ء صفحه ۲) جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کے بعد ایک معزز سکھ سردار دھرم انت سنگھ پرنسپل