سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 584
526 خدا نے اس میں بھی فائدہ کی صورت نکال دی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔ایسی ہی ایک اور بے بنیا دیگر جماعت کو رنج و غم میں مبتلاء کر دینے والی خبر کی حضور کو اطلار دیتے ہوئے مکرم میاں محمد محسن صاحب فیصل آباد نے لکھا: کسی شخص نے جو اپنا نام عبدالرحمان بتلائے اور اپنے آپ کو احمدی کہے فون کیا کہ سنا ہے حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی ) پر کسی نے گولی چلا دی ہے۔آپ کو کچھ معلوم ہو تو اطلاع دیں دل اس دہشتناک خبر سے اس قدر پریشان ہوا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں اور جب تک فون نہ ملا اس وقت تک یہ حالت تھی کہ ایک رنگ آتا اور ایک جاتا۔خدا خدا کر کے حضور کی خیریت کی اطلاع ملی اور دل خوشی سے بھر گیا بے اختیار زبان سے نکلا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔۔۔۔۔۔اللہ تبارک تعالیٰ حضور کو تا دیر سلامت رکھے اور حاسدان بداندیش خائب و خاسر ہوں آج جس وقت سے میں یہاں آیا ہوں درجنوں ٹیلیفون بھائی بشیر احمد صاحب کے نام شہر سے آرہے ہیں۔”ملاپ کے دفتر سے، پرتاپ کے دفتر سے اور کئی غیر احمدیوں نے اور بے شمار احمد یوں نے گھبرائی ہوئی آواز اور تھرائی ہوئی زبان سے اس غم انگیز خبر کے متعلق پوچھا غرضیکہ سارے شہر میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اور جس وقت کوئی احمدی دوست ٹیلیفون کرتا تو گو میں اس سے واقف نہ ہوتا مگر ان کی آواز رقت اور غم سے بھری ہوئی مجھے بتلا دیتی کہ یہ صاحب حضور کے جاں نثار ہیں اور شدت غم سے گھبرائے ہوئے ہیں۔میں انہیں تسلی دیتا۔(الفضل ۱۱ اگست ۱۹۳۷ء صفحه ۲) ایسی افواہوں سے دشمن کی اپنے بد ارادوں میں نا کا می تو ثابت ہوتی ہی ہے مگر دشمن کی نامرادی وحسرت میں اضافہ کے لئے جماعت کی محبت و عقیدت پہلے سے بھی زیادہ ہو جاتی اور زندگی کی ایک نئی روح پیدا ہو جاتی رہی۔عدد شر بر انگیزد که خیر ما در آن باشد